30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب ہمیشہ خواہشِ نو کی عادت ڈالی گئی اور پُرظاہر کہ چند روزرکھ کر چھوڑنے کےلئے دو امًا تازہ عورت کا ملنا خصوصًا ہندوستان میں سخت مشکل ہے تو جب اس میں کمی ہوگی نفس بدخو جسے صبرکاخوگر کیا ہی نہ تھا وُہ رنگ لائے گا کہ ایك پرقناعت کرنے والے اس کی ہوا سے آگاہ نہیں۔والعیاذباﷲتعالٰی،واﷲ تعالٰی سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٤٠تا٢٤١: مرسلہ محمد عبدالرحمن جلشانی شافعی از بنارس محلہ مدنپورہ مدرسہ امداد العلوم مسجد کلاں ذی الحجہ ١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسائل مندرجہ ذیل میں ازرُوئے مذہب شافعی رحمۃ اﷲتعالٰی علیہ کے:
(١)ایك شخص شافعی المذہب زوجین باہم رہتے تھے شوہرکو جذام کا عارضہ ہوگیا جس کے خوف کی وجہ سے اُس کی زوجہ اپنے ماں کے یہاں چلی گئی،شوہر اس کو بُلاتا رہا مگر اس کے لاحقہ عارضہ کے خوف سے اس کی زوجہ نہ آئی یہاں تك کہ شوہر اُس کا اُسی عارضہ میں فوت ہُوا،اس صورت میں مہرو ورثہ ونان نفقہ زوج کے ترکہ سے زوجہ کو پہنچ سکتا ہے یانہیں ؟از رُوئے شرع الطیف بحوالہ کتبِ معتبرہ تحریر فرمایا جاوے۔
(٢)بعض اشخاس زوجہ مذکورہ بالا کو زوج مرحوم کے ترکہ سے ورثہ ونان نفقہ دینے میں انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زوجہ کوکُچھ پہنچتا ہی نہیں ورثہ زوجہ قرآن مجید سے ثابت یا نہیں اور منکر اُ س کا دائرہ اسلام سے خارج سمجھا جائے گا یا نہیں فقط، بینوا توجروا
الجواب:
زوجہ متوفی کو صورت مستفسرہ میں باتفاق ائمہ حنیفہ وشافعیہ رحمہم اﷲتعالٰی مہر ورترکہ قطعًا ملے گا،ائمہ حنیفہ کے نزدیك تو جَبَّ وعِنّت یعنی آلت بریدگی یا نامردی کے سوا کوئی مرض شوہر مطلقًا سببِ فسخِ نکاح نہیں،درمختار میں ہے:
|
لا یتخیر احد الزوجین بعیب الاخرولو فاحشا کجنون وجذام وبرص[1]الخ۔ |
خاوند بیوی میں کسی کو دوسرے کے عیب جسمانی مثلًا جنون،جذام اور برص کے امراض کی وجہ سے فسخ کا اختیار نہیں ہے الخ(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع