30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٢٣٧: ازموضع لال پور ڈاکخانہ موہن پور بنگال مرسلہ منیر الدین احمد لالپوری کمر لوی ٨شوال ١٣٣٣ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ جو لوگ شرك پر عین اعتقادرکھے اور بتخانے میں سجدہ وغیرہ کرنے سے اپنی بی بی کے نکاح سے خارج ہوگیا وُہ اگر توبہ کرکے مسلمان ہوجائے بی بی مذکورہ سے نکاح کرے تو حلالہ کرے یابغیر حلالہ کے نکاح درست ہے؟
الجواب:
جوتین طلاق دے چکا ہو وُہ یا جورویا دونوں اگر قہار کی لعنت اپنے سرلینے کو مرتد،مشرک،بت پرست کُچھ بھی ہوجائیں و ہ تین طلاقیں رہیں گی مسلمان ہوجانے کے بعد پھر حلالہ کی ضرورت ہوگی بے حلالہ ہرگز ہر گز درست نہ ہوگا۔وھوتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٣٨:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے طلاق زید سے دو٢ مہینے بعد بکر سے نکاح کرلیا ١٨سال تك اس کے یہاں رہی اس مدّت میں چار بیٹے ہوئے زید قیدہوگیا تھا بعد قید بھی ہندہ کا دعوٰی دار نہ ہُوا اب اس قدر مدّتِ کثیر کے بعد ہندہ بے رضائے بکر خانہ بکر سے نکل کر خالد کے ہیں چلی گئی اس صورت میں ہندہ منکوحہ بکر ہے اور اس پر بکر کا دعوٰی اپنے پاس رکھنے کا پہنچتا ہے یانہیں ؟بینواتوجروا
الجواب:
صُورت مسئولہ میں اگر طلاق کے بعد ہندہ کو تین حیض عــــہ کامل گزرچکے تھے اس کے بعد نکاح ہُوا یعنی حیض بعد طلاق شروع ہُوئے ہوں اور قبل نکاحِ ثانی ختم ہوچکے ہوں یا وقتِ طلاق زید ہندہ حاملہ تھی اور بعد طلاق وضعِ حمل ہوگیا اگرچہ اُس دن ہُوا ہواُس کے بعد اس نے بکر سے نکاح کیا تو ان دونوں صورتوں میں تو بیشك نکاح بکر صحیح تھا اور بکر اسے لینے کا دعوٰی کرسکتا ہے عورت جبرًا اُسے دلائی جائے گی،
|
قال اﷲتعالٰی اَلرِّجَالُ قَوّٰمُوۡنَ عَلَی النِّسَآءِ [1]۔ |
اﷲتعالٰی نے فرمایا:مردوں کوعورتوں پر غلبہ حاصل ہے۔ (ت) |
اور اگر ان دومہینے میں تین حیض کامل بعد طلاق گزرے تھے نہ وضع حمل ہُوا کہ بکر سے نکاح کرلیا تو وُہ
عــــہ:امام اعظم کے نزدیك تین حیض کم سے کم ساٹھ دن اور صاحبین کے نزدیك اڑتالیس دن میں ہوسکتے ہیں ۱۲۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع