30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وعدہ کیا تھا،اگرمیں مقدمہ سے خلاص ہُوا تو تجھے اپنے مکان میں رکھوں گا لہذااپنی سالی کی زبان بندی سے مقدمہ سے مخلص پایا اور اپنی سالی کو اپنے مکاں میں لے آیا اُوپر کے بیان کے مطابق ضمیر کو کاروائی کرنے سے بستی والوں نے جبر کیا اور ایك جلسہ کرکے کہا تو چاہے چھوٹی کو نکال دے یا بڑی کو طلاق دے اور چھوٹی سے نکاح کرلے،اُس وقت ضمیر نے اپنی منکوحہ کو طلاق ثلٰثہ دیا اوراپنی سالی سے نکاح کرلیا،ایسی حالت میں کیا حکمِ شرع شریف ہے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اس کی پہلی زوجہ کو تین طلاقیں ہوگئی،اسکی عدّت گزرنے کے بعد نکاح کیا ہے نیز سالی کو اس کے شوہر نے جو طلاق دی اس کی عدّت بھی گزرنے کے بعد تو یہ نکاح صحیح ہوگیا اوراگر دونوں عدّتوں میں سے کوئی عدت باقی تھی تو حرام فاسد ہُوا اس پر فرض ہے کہ اُس دوسری کو بھی چھوڑدے جب دونوں بہنوں کی عدتیں گزرجائیں اس دوسری سے نکاح کرسکتا ہے۔
مسئلہ ٢٣٤:از دلیل گنج ڈاك خانہ جہان آباد ضلع پیلی بھیت مرسلہ اکبر یار خان صاحب وحافظ سیّد میر صاحب ١٤جمادی الآخرہ ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك عورت جوغیر جگہ کی رہنے والی تھی اُس کی ماں ایك عرصہ سے یہاں آباد تھی جب اُس کی ماں بیمار ہُوئی تو اُس کے دیکھنے کی غرض وُہ عورت یعنی اُس کی لڑکی دلیل گنج آئی اُس کی ماں اس عرصہ میں مرگئی اسکی دو٢ بہنیں بھی دلیل گنج میں موجود ہیں جن کی شادی بھی یہیں ہوئے بعد انتقال اُس کی ماں کے اس کے بہنوئی کے بھائی نے اپنے گھر میں رکھ لیا کچھ عرصہ تك وُہ اپنے بہنوئی کے بھائی کے یہاں رہی پھر اُس کے خاوند کو بُلوایا اور چودہ١٤ روپے دے کر اُس کے خاوند سے طلاق دلوائی اب وُہ بدستور اُس شخص کے یہاں موجود ہے یہ فیصلہ جن پنچوں نے کیا ہے آیا صحیح ہے اور ان شخصوں کی بابت کیا حکم ہے جنہوں نے یہ پنجایت کی اور اس کی نسبت جس کے گھر میں غیر نکاحی عورت موجود ہے اب اس کا نکاح بعد عدّت کرنے کا ارادہ ہے آیا وُہ نکاح صحیح ہوگا یاغلط؟
الجواب:
طلاق ہوگئی بعد عدّت نکاح صحیح ہوگا اور یہ جس نے بلا نکاح اُسے اپنے یہاں رکھا ہے اگر کسی امرِ ناجائز کا اُس کے ساتھ مرتکب ہوا ہے اگر چہ اسی قدر کہ تنہا مکان میں ایك منٹ کے لئے ساتھ ہونا تو فاسق ہے مستحقِ عذاب ہ اور چودہ١٤روپے اگر چہ بطور مالکانہ نہ دئے گئے جیسا بعض رذیل جاہلوں میں رواج ہے تو یہ لینا دینا دونوں حرام اور وُہ فیصلہ کرنے والے سب مبتلائے آثام،اور اگر مردوزن میں اتفاق
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع