30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٢٣٠: از قصبہ کوردرکوٹ ضلع اٹاوہ مسئولہ محی الدین احمدصاحب ٢٤شعبان ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسلمان نے اپنی زوجہ کو طلاق دی اور وُہ اس کے گھر سے باہر ایك ہفتہ رہی،اندر ایك ہفتہ کے پھر اس نے اُس کو اپنے گھر میں رکھ لیا او وہ اس کے گھر میں مثل زوجہ موجود ہے،اس کے واسطے شرعی کیا حکم ہے؟
الجواب:
اگر عورت کو طلاق دے کرہفتہ کے بعد پھر رکھ لیا،اگر تین طلاقیں دی تھی فاسق وزانی ہوا،یونہی اگر طلاق بائن دی تھی اور دوبارہ نکاح نہ کیا حرامکاری ہوا،اور اگرطلاق بائن تھی اور نکاح کرکے رکھایا طلاق رجعی تھی اور بلا نکاح واپس کرلیا تو گناہ نہیں۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٣۱: ٨ رجب١٣١٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسمّاۃ کے باپ اور بھائی اور ماں اور دیگر ورثابہ نیّت اس امر کے طلاق مشہور کرتے ہیں کہ جو کُچھ جائداد شوہر کی ہے اس کو چھین کراور شوہر سے زوجیت کوچھڑا کر بجائے دیگر اس کا عقد کریں اور زر شوہر سےنفع اُٹھاویں،بموجب شرع کے ایسے شخصوں کے واسطے کیا حکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب:
اگر واقع میں اس نے طلاق نہ دی یہ لوگ دانستہ جُھوٹ باندہ کر طلاق مشہور کرتے ہیں تاکہ عورت کو اس کے شوہر سے چُھڑالیں تو سخت عذاب ولعنتِ الٰہی کے مستحق ہیں والعیاذباﷲ تعالٰی(اﷲ تعالٰی کی پناہ۔ت)قال اﷲتعالٰی:
|
فَیَتَعَلَّمُوۡنَ مِنْہُمَا مَا یُفَرِّقُوۡنَ بِہٖ بَیۡنَ الْمَرْءِ وَزَوْجِہٖ ؕ[1]۔ |
اورسیکھتے ہیں ان دونوں سے وُہ جس سے مرد اور اسکی بیوی میں جدائی کرسکیں۔(ت) |
رسول اﷲصلی تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لیس منّا من خبب امرأۃ علٰی زوجھا او عبدًا علی سیّدہ [2]۔رواہ |
وُہ شخص ہم میں سے نہیں جوکسی کی بیوی کو اس کے خلاف بنائے،یا کسی غلام کو اپنے آقا کے خلاف |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع