30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ ایں حکم از کجا آوردند واجماع بروئے چرانمودند واگر خلافش کند وحکم یك طالق دہد مواخذہ خواہد شد یانہ چرا؟ |
نہیں تو حضرت عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ کہاں سے یہ حکم لائے اور اس پراجماع کیوں ہُو،اگر کوئی ان مذکورہ تین کو ایك طلاق قرار دے تو مواخذہ ہوگا یانہیں تو کیوں ؟ |
الجواب:
|
(١)مالك سہ طلاق نہ شود ہر چہ باقی ماندہ است ہموں بدست اوست۔واﷲتعالٰی اعلم۔ (٢)خلافش نہ کند مگر مخالف سواداعظم وحکمِ عمر حکمِ خداست قال اﷲتعالٰی وَمَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ۚ وَمَا نَہٰىکُمْ عَنْہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ[1]،وقال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم علیکم بسنتی وسنۃ الخفاء الراشدین وعضواعلیھا بالنواجذ [2]،وقال صلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم اقتدوا بالذین من بعدی ابی بکر وعمر[3] امّا آنکہ از کنا آور د ا از انجا آوردہ کہ حق سبحٰنہ ہم در حق عمر فرمودہ لَعَلِمَہُ الَّذِیۡنَ یَسْتَنۡۢبِطُوۡنَہٗ مِنْہُمْ ؕ[4]۔ واﷲ تعالٰی اعلم
|
(١)تین طلاقوں کا مالك نہ ہوگا بلکہ باقیماندہ طالق کامالك رہے گا۔واﷲتعالٰی اعلم۔ (٢)حضرت عمر رضی اﷲتعالٰی عنہ کے فیصلہ اور اس پر اجماع کی مخالفت صرف سواد اعظم کی مخالف ہی کرے گا،کیونکہ عمررضی اﷲتعالٰی عنہ کے فیصلہ اور اس پر اجماع کی مخالفت صرف سواد اعظم کا مخالف ہی کرے گا،کیونکہ عمر فاروق کا حکم اﷲ تعالٰی کی ترجمانی ہے اﷲتعالٰی نے فرمایا:"جو کچھ سنّت اور خلفائے راشدین کی سنّت کو لازم پکڑو اور اس پر مضبوطی سے قائم رہو۔"اور حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام نے فرمایا:میرے بعد ابوبکر اور عمر رضی اﷲتعالٰی عنہماکی پیروی کرو۔"لیکن یہ کہ عمر فاروق حکم کہاں سے لائے،تو وہاں سے لائے جہاں اﷲتعالٰی نے عمر فاروق رضی اﷲتعالٰی عنہ کے متعلق فرمایا ہے حکم کو معلوم کرلیں گے وُہ لوگ جو استنباط کریں تم سے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع