30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی کہا حرامزادی تجھ کو میں نے طلاق دیا تو میرے گھر سے نکل جامیں تجھ کو نہیں رکھوں گا۔تو اب زید کہتا ہے ہندہ کو میں نے بیشك طلاق دیا لیکن دوطلاق دی یاتین طلاق دیا اس وقت میری یاد نہیں ہے مگر اس جگہ میں اُس وقت دوعورت تھی ایك زید کی میادوسری بہن یہ دونوں عورتیں کہتی ہیں زید نے اپنی بی بی کو ایك طلاق دیا اور حرامزادی میرے گھر سے نکل جا میں تجھ کو نہیں رکھوں گا اور ہندہ زید کی بیوی بھی یہی کہتی ہے۔شرع شریف میں کیا حکم ہے طلاق واقع ہوا یا نہیں تو رجعی یا بائن یا طلاق مغلظہ؟ بینواتوجروا زیادہ والسلام فقط۔
الجواب:
جب طلاق میں شك ہو کہ دو٢ تھی یا تین،تو دو سمجھی جائیں گی جب تك گواہان شرعی سے زیادہ کا ثبوت نہ ہو،
|
فی الاشباہ والدرالمختار والعقود الدریۃ وغیرھا لوشك اطلق واحدۃ او اکثر بنی علی الاقل[1]۔ |
اشباہ،درمختار،عقودریہ وغیرہا میں ہے کہ ایك طلاق یا زیادہ میں شك ہوتو کم عدد والی یقینی ہوگی۔(ت) |
زید نے اس لفظ سے کہ"تُو میرے گھر سے نکل جا"اگر طلاق کی نیت کی تھی تو دو٢طلاقیں بائن پڑیں فان البائن یلحق الصریح والرجعی یصیر بائنا بلحوق البائن(بائن طلاق،رجعی طلاق کو لاحق ہوسکتی ہے تو بائنہ کے لاحق پررجعی بھی بائنہ ہوجاتی ہے۔ت)ورنہ ایك طلاق رجعی پڑی،
|
لان اخرجی ممایحتمل ردا فلایقع بہ بلانیۃ وان کانت الحال حال المذاکرۃ لتقدم التطلیق یقع کما نصواعلیہ۔ |
کیونکہ"نکل جا"یہ لفظ رَد کا احتمال رکھتا ہے لہذا نیت کے بغیر اس سے طلاق نہ ہوگی،اور اگر مذاکرہ طلاق کا حال جیسے پہلے طلاق دے دی ہو تو"نکل جا"سے طلاق واقع ہوگی،جیسا کہ فقہاء نے اس پرتصریح کی ہے۔(ت) |
ہاں اگر یہ سارا جملہ کہ"میں نے تجھ کو طلاق دی،میرے گھر سے نکل جا"دوبارہ کہا اُن میں ایك بار بھی"میرے گھر سے نکل جا"سے نیّت طلاق کی کی تو تین طلاقیں ہوگئیں۔واﷲتعالٰی اعلم بالصواب۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع