30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ٢٢٥: ازبمبئ محلہ کماٹی پورہ دوسری گلی مرسلہ محمد عثمان صاحب حنفی سُنّی قادری ١٤جمادی الآخرہ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین،زید نے اپنی زوجہ ہندہ کو ایك شخص کے سامنے کہا"میں تجھے طلاق دیتا ہوں"بعینہٖ یہی زید کی زوجہ اور خواشد امن کا کہنا ہے،بعدہ،ایك طلاق نامہ تحریر کیا گیا جس میں یہ عبارت درج تھی کہ اپنی بی بی زہرہ کو تلاخ کہہ دیا اور زید کا والد حلفًا کہتا ہے کہ میرے لڑکے نے"طلاق دیتا ہوں"کہا تھا اور اس کے والد کی نسبت دو٢ آدمیوں نے کہا کہ یہ شخص جھوٹ نہیں کہاتا اور زید کے والد نے یہ بھی کہا کہ یہ شخص یعنی زید جولڑکا ہے میرا زہرہ بی بی کے والد کا نام نہ لیا جو بھولٹی تھا بلکہ زہرہ لعل محمد کو طلاق دیتا ہُوں۔اور طلاق نامہ پانچ آدمیوں کے رُوبرو تحریر کیا گیا اُن میں ایك آدمی یہ کہتا تھا کہ زیدسے جب کہا گیا کہ طلاق دے تو زید نے کہا"ہُوں دیتا ہُوں"اس صورت میں طلاق بائنہ ہوئی یا رجعی یا ں نہیں ؟
الجواب:
سائل نے کچھ نہ لکھا کہ زید اب طلاق دینے کا اقرار کرتا ہے یا منکر ہے،اگر اقرار کرتا ہے تو جیسی طلاق کو وُہ مقر ہے ویسی ہوگئی رجعی یا بائن یا مغلظہ،اور اگر منکر ہے تو ان بیانوں سے جو سوال میں لکھے گئے اگر واقع میں ایسے ہی میں اصلًا کوئی طلاق ثابت نہیں،اُس کا یہ لفظ کہ"میں تجھ کو طلاق دیتاہوں"اس کا گواہ صرف ایك مرد ایك عورت اور وُہ بھی اس کی عورت کی ماں،اور طلاق نامہ کے یہ لفظ سوال میں ہیں کہ"اپنی بی بی زہرہ کو تلاخ کو دیا"اس سے طلاق نہیں ہوتی،اس کا تو اتنا حاصل ہے کہ اسے طلاق دینے کےلئے کسی کو سپرد اور کیا اور اس باپ کا جو بیان ہے وُہ بھی مثبت طلاق نہیں کہ پہلے مرد کے ساتھ مل کر نصاب کامل ہوجائے،جب عورت کی طرف اشارہ نہیں بلکہ نام لیا اور لعل محمد کی بیٹی کہا اور وہ لعل محمد کی بیٹی نہیں تو اس کو طلاق نہیں۔پچھلے بیان میں اس کی طرف اضافت نہ سوال میں ہے نہ جواب میں،اور طلاق نامہ لکھتے وقت کا یہ بیان ہے تومعنی ارادہ پر حمل واضح ہے،غایت یہ کہ اگر وُہ پہلا اور یہ پچھلا شخص ثقہ عادل ہوں تو زید سے حلف لیا جائے،اگر حلفًا کہہ دے کہ میرا ارادہ طلاق کانہ تھا تو ہرگز طلاق ثابت نہیں،ہاں اگر نقل طلاق نامہ میں دوسرا لفظ"کو"قلمِ سائل سے زائد نکل گیا ہے اور اس میں یہ لکھا ہے کہ"زہرہ کو تلاخ دیا"اور اس طلاق نامہ کے لکھنے کا وہ مقر ہو یا دو٢گواہ عادل شرعی باقاعدہ شہادت دیں تو ایك طلاق رجعی ثابت ہوگی۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٢٦: ازشہر بریلی محلہ باغ احمد علی خاں ٣٠ربیع الاوّل شریف ١٣١٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ کو غصّہ کی حالت میں طلاق کے لفظ بولا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع