30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
باطل ہے،اور جب طلاق نہیں عدت
کہا کہ اس کا نفقہ ہو،نفقہ زوجیت کا ہوگا اگر شوہر کے یہاں رہے گی۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢٢٣: از شہر کہنہ بریلی محلہ شاہدانہ صاحب رحمۃ اﷲتعالٰی
علیہ مسئولہ نصر اﷲصاحب ١٤ذی الحجہ ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے حالتِ غصّہ میں اپنی زوجہ کو مارنے گیا اور کہا کہ اگر تُولڑنے اورمنہ زوری کرنے سے نہ مانے گی تو میں تجھ کو طلاق دے دُوں گا،وہ نہ مانی،شوہر نے کہا کہ"تجھ کو طلاق دی میں نے،جاتجھ کو طلاق د ی میں نے"۔اس کا نتیجہ یہ ہے جا فقط،اب زید رجوع کرنا چاہتا ہے،بموجب شرع کے کیا حکم ہے؟
الجواب:
تین طلاقیں ہوگئیں بغیر حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی،
|
لان(جا)وان کان یحتمل رداو غایتہ تقدم الطلاق ان الحال صال حال المذاکرۃ لکن مایحتمل الردینوی فیہ مطلقا غیران ایقاعہ الطلاق یرد ارادۃ فیہ مطلقا غیران ایقاعہ الطلاق یردارادۃ الردوکذا قولہ(اس کا نتیجہ یہ ہے)فان الناتج من نشوزھا تطلیقھا لاردہ فکان خلاف الظاہر فلایصدق فیہ قضاء،والقرینۃ کالقاضی[1] کما فی الفتح والبحر قال فی الدرالمختار ذھبی وتزوجی تقع واحدۃ بلانیۃ[2] قال الشامی لان تزوجی قرینۃ فان نوی الثلاث فثلاث بزازیۃ[3]ثم نازعہ بان تزوجی |
اس لئے کہ"جا"کا لفظ اگر چہ جواب بننے کا احتمال رکھتا ہے اور اگر پہلے طلاق دی ہوتو اس کی غایت بننے کا بھی احتمال رکھتا ہ،چونکہ حال مذاکرہ طلاق ہے لیکن جواب کے احتمال والے لفظ میں طلاق کےلئے نیت ضروری ہے،مگر یہاں خاوند کا طلاق کو واقع کرناجواب کے احتمال کو رَد کردیتا ہے اور یُوں ہی خاوند کا کہنا"اس کا نتیجہ یہ ہے"بھی جواب کے احتمال کو ختم کرتا ہے کیونکہ بیوی کی نافرمانی کا نتیجہ طلاق کو قرار دیاگیا جواب کو نہیں،لہذا جواب کا احتمال خلافِ ظاہر ہے اس لئے قضاءً بھی اس کی تصدیق نہ ہوگی،اور قرینہ قاضی کی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع