30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنی زوجہ کو علیحدہ کردیا جس پر خالد نے یہ تحریر کردیا کہ مہربانی کرکے مطلع کیجئے کہ آپ نے اپنی زوجہ ثانیہ کو طلاق دے دی زید نے خالد کی تحریر کے نیچے تحریر کردیا جی ہاں اور بعد اس کے اپنے دستخط کردئے زید کی زوجہ ثانیہ کو اس تحریر سے طلاق واقعہ ہوگئی اور زید کو رجوع کاموقعہ نہ رہا۔بینواتوجروا۔
الجواب:
اگر زید مقر ہو یا گواہانِ شرعی سے ثابت ہوکہ یہ دونوں تحریریں اُ س کی ہیں تو عورت نکاح سے نکل گئی رجوع نہیں کرسکتا،ہاں بے حلالہ دوبارہ برضائے زوجہ کرسکتا ہے اگر اس سے پہلے کبھی اسے دو٢ طلاقیں نہ دے چکا ہو۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢١٨: از ہاشی ضلع حصار ڈاك خانہ خاص مسئولہ محمد ظہیرالدّین ومحمد نظیرالدین عطاران ٣ربیعالاول ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین واربابِ باتمکین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی منکوحہ مسمّاۃ ہندہ کو کھانے پینے کی تکلیف دیتا تھا پس مسمّاۃ ہندہ کے والد نے بوجہ اپنی لڑکی کی تکلیف دفع کرنے کے پنچایت کو جمع کرکے فیصلہ چاہا حالانکہ زید پنچایت کے جمع کرنے پر راضی نہ تھا،پنچایت نے یہ فیصلہ کیا کہ مسمّی زید اپنی بیوی مسمّاۃ ہندہ کو مبلغ معہ٨/دیا کرے جس کا ایك کاغذ بھی لکھا گیا بایں مضمون کہ"اگر زید مذکور اپنی بیوی مسماۃ ہندہ مذکورہ کو رقم مجوزہ نہ دے گاتو ہندہ کو طلاق واقع ہوجاوے گی"جو بغرض دھمکی پنچایت نے لکھوایاتھا نہ کہ طلاق کی نیّت سے زید نے نہ کاغذ لکھنے کو کہا اپنی زبان سے اورنہ اپنے قلم سے کاغذ مذکورلکھا بلکہ ایك دوسرے شخص نے کاغذ لکھا بوجودیکہ خود شخص زید خواندہ شخص ہے اور کاغذ پر دستخط زید نے برادری کے خوف سے کئے ہیں راضی نہ تھا بعد فیصلہ پنچایت مسماۃ ہندہ کو اس کا والد اپنے مکان پر لے گیا اور ہندہ مذکورہ بعد دو٢ماہ کے زید کے مکان میں آئی تو زید برابر اس کونان نفقہ دیتا رہا مذکورہ بالا صورت میں جبکہ زید نے وُہ رقم مجوزہ پنچایت نہیں دی ہندہ کو طلاق ہوگئی یا بمصداق الاعمال بالنیات(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔ت)نہیں ہوئی کیونکہ نہ اس کی طلاق دینے کی نیت تھی اور نہ پنچایت طلاق دلانا چاہتی تھی بلکہ محض دھمکی تھی بینواتوجروامع عبارۃ الکتب وبحوالہ الفصل والباب (عبارت کتب اور فصل اور باب کے حوالہ کے ساتھ بیان کیجئے اور اجر پائے۔ت)فقط۔
الجواب:
صریح الفاظ میں نیت کی حاجت نہیں ہوتی،اور خود لکھنا اور دوسرے کے لکھے ہوئے کو سُن کر اس پر دستخط کرنا یکساں ہے اور خوفِ برادری کہ حدِ اکراہ تك نہ ہو کوئی عذر نہیں،اگر تحریر میں یہ تھا کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع