30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
العدۃ من وقت الکتابۃ الخ[1] (ملخصًا) |
اور بیوی کو لکھائی کے وقت سے عدت لازم ہوگی الخ(ملخصًا)۔ (ت) |
اور دوسری اس وقت جبکہ یہ خط بحرف عمدہ اور اس کے والد کو سرمست خاں نے سُنایا کہ طالعور خاں کا لکھنا سرمست خان سُنادیں تاکہ اس پر طلاق شرعًا واجب ہوجائے طلاق معلّق تھی تو جب شرط ایامِ عدّت میں پائی گئی یہ طلاق بھی واقع ہوئی اور ازانجا کہ پہلی طلاق بائن تھی یہ دوسری بھی خواہی نخواہی بائن ہوگئی۔ردالمحتار میں ہے:
|
اذ الحق الصریح البائن کان بائنا لان البینونۃ السابقہ علیہ تمنع الرجعۃ کمافی الخلاصۃ٢[2]۔ |
اگر بائنہ طلاق کے بعدرجعی طلاق دی تو وہ رجعی بھی بائنہ ہوجائے گی،کیونکہ پہلی بائنہ کے بعد رجوع ممنوع ہوجاتا ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے(ت) |
بالجملہ عمدہ پر واجب کہ اپنے آپ کو طالعور خاں کے نکاح سے باہر سمجھے طالعور خاں کو اس پر ہرگز جبر نہیں پہنچتا،عمدہ کو اختیار ہے جس سے چاہے نکاح کرلے کہ طلاق بائن سے عورت خودمختار ہوجاتی ہے۔درمختار میں ہے:
|
لانھا لاتملك نفسھا الاالبائن[3]۔ |
بیوی بائنہ طلاق کے بعد اپنے آپ کی مالك ہوجاتی ہے۔(ت) |
اور جبکہ پہلے ہی خط بائن طلاق پڑی اور عدّت گزرچکی تو بعد کے خطوط کو وقوعِ طلاق میں کچھ دخل نہیں۔عالمگیری میں ہے:
|
شرطہ قیام القید فی المرأۃ نکاح او عدۃ کذافی المحیط السرخسی٤[4]اھ ملخصًا۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
وقوعِ طلاق کے لئے شرط ہے کہ بیوی ابھی تك نکاح یا عدّت میں مقید ہو۔جیساکہ محیط سرخسی میں ہےاھ ملخصًا۔ واﷲ تعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ۲۱۷: بریلی محلہ نیم کی چڑھائی مرسلہ چودھری اشتیاق احمد ٢٢ربیع الآخر شریف ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے خالد کو بذریعہ تحریر کے یہ اطلاع دی کہ میں نے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع