30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سلّمہ اﷲتعالٰی بعد ازآداب کے بندہ محمد اسحٰق عرض رساں ہے کہ حضور پُر نور کا فتوٰی پہنچا کمال درجہ کی خوشی حاصل ہوئی، اﷲتعالٰی آپ کو اجرِ عظیم بفحوائے خیر الناس من ینفع الناس(لوگوں میں سے بہتر ہو جو لوگوں کونفع پہنچائے۔ت)عطا فرمائے گا،التماس خدمتِ بابرکت میں یہ ہے کہ طالعور خاں اقرار کرتا ہے ایك مرتبہ نہیں ہزار مرتبہ اقرار کرچکا ہے فقط اس کا مقولہ یہ ہے کہ بیشك یہ خط تو میں نے تحریر کیا ہے اب اس کے موافق مجھے شرع سے کیا حکم ہوتا ہے اور جب یہ خط آیا تو سرمست خاں صاحب نے طالعور خاں کی زوجہ عمدہ اور اس کے والد نجم خاں کوحرف بحرف پڑھ کر سُنا بھی دیا،اس صورت میں یہ معلوم کرنا منظور ہ کہ ازروئے شرع عمدہ کے حق میں کیا حکم ہے،طالعور خاں اس پر اپنے ساتھ نکاح کرلینے کا جبر کرسکتا ہے یانہیں اور عمدہ کو بوجہ اس کے کہ عدت گزرچکی جس سے چاہے نکاح کرلینے کا اختیار ہے یا نہیں اور حکم وقوع طلاق میں کیا صرف پہلے خط کو دخل ہے یا اوروں کو بھی؟بینو اتوجروا۔
الجواب:
جبکہ طالعور خاں اسی خط کے لکھنے کامقر ہ اور سرمست خاں نے حسبِ درخواست طالعورخاں یہ خط اُن دونوں کو حرف بحرف سُنا بھی جیسا کہ سوال میں مذکور ہے تو مستفسرہ میں عمدہ کے حق میں حکم شرع یہ ہے کہ اس پر دو٢ طاقیں بائن ہوگئیں ایك تو اسی وت جبکہ طالعور خاں نے یہ لفظ لکھے تھے کہ آپ کو اجازت دیتا ہون کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ کردو کہ دوسرے سے نکاحِ ِزن اجازت دیتا ہوں کہ اُس کا نکاح کسی دوسرے شخص کے ساتھ کردو کہ دوسرے سے نکاحِ زن کی اجازت دینی بیشك کنایاتِ طلاق سے ہے اور اس خط کی عبارت اوّل تا آخر نیت ازالہ نکاح میں ظاہر کما لایخفی علی کل ماہر وقد بیناہ فی ماسبق(جیسا کہ کسی ماہر پر مخفی نہیںہے اور ہم نے اس کو پہلے بیان کردیا ہے۔ت)او ان کنایوں سے طلاق بائن ہی پڑتی ہے۔
کنزالدقائق میں ہے:
|
فی غیرھا بائنۃ وھی بائن،حرام،ابتغی الازواج١[1]اھ ملخصًا۔ |
مذکورہ الفاظ ثلثہ کے غیر میں طلاق بائنہ ہوگی اورطلاق بائنہ کے الفاظ یہ ہیں:بائن،حرامِ،تُوشوہر تلاش کر اھ ملخصا ً(ت) |
تو بغور تحریر خط طلاق ہوگئی اور اسی وقت سے عدت کا شمار لیا جائے۔فتاوٰی قاضی خاں میں ہے:
|
ان ارسل الطلاق فکما کتب وتلزمھا |
اگر طلاق لکھ کر بھیجی تو جو لکھا وہ طلاق واقع ہوگی، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع