30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٢١٥: از بڑوودہ ملك گجرات موتی باغ ببریا مرسلہ سیّد غلام سرور صاحب ٢٤ربیع الآخر شریف ١٣١٢ھ
شرع محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے عالم اس مسئلہ میں کیا ارشاد فرماتے ہیں،ایك شخص نے اجمیر شریف سے جاکر اپنی عورت کو بڑودہ میں بذریعہ کط ایك طلاق بنام جماعت لکھ کر روانہ کیا میری عورت کو کہہ دینا میں نے ایك طلاق اپنی عورت کو دی،جماعت نے عورت کو خط سُنادیا،دو٢ مہینے کے بعد بڑودہ میں آیا،عورت نکاح میں رہی یانکل گئی؟ سوال کے جواب عطا فرمائےے ثواب آپ کو خداوند تعالٰی عطا فرمائے گا۔
الجواب:
اگر واقع میں اس شخص نے یہ خط آپ کو لکھا یا دوسرے کو عبارۃ مذکورہ بتاکر لکھوایا کہ میری عورت کی نسبت یہ الفاظ لکھ دے تو جس وقت اس کے قلم یازبان سے یہ لفظ نکلے اسی وقت سے عورت ایك طلاق پڑگئی اور اسی وقت سے عدّت کا شمار ہوگا اگرچہ یہ خط بڑودہ نہ پہنچتا یا وہ خود ہی لکھ کر نہ بھیجتا یا مکتوب الہیم عورت کو نہ سُناتے کہ جو الفاظ طلاق لکھے یا بتائے جب ان میںکوئی شرط نہیں کہ یہ خط جب پہنچے یا سنایاجائے اس وقت طلاق ہوتو ان کا لکھنا یا بتانا ہی طلاق کا موجب ہوگیا بھیجنے پہنچنے سنانے پر توقف نہ رہامگر ازانجا کہ طلاق رجعی ہے عورت نکاح سے نہ نکلے گی جب تك عدّت نہ گزرجائے۔ایامِ عدت میں بے تجدید نکاح عورت سے رجعت کرسکتا ہے مثلازبان سے کہہ دے میں نے اسے اپنے نکاح میں پھر لیا،بدستور اس کی زوجیت میں باقی رہےگی جس میں عورت کی رضامندی بھی ضرور نہیں،اوراگر عدّت گزرگئی تو برضائے عورت اس سے ازسرنو نکاح کرسکتا ہے کچھ حلالہ کی حاجت نہیں جبکہ اس سے پہلے دو٢ طلاقیں نہ دے چکا ہو۔اور اگر واقع میں یہ اس شخص کا کام نہیں بلکہ کسی اور نے بطورِ خود اس کے نام سے لکھ بھیجاہے تو طلاق نہ واقع ہوئی کہ دوسرے کے نزدیك طلاق اسی وقت ثابت ہوگی جبکہ اسے اس خط کا اقرار ہویاانکار کرے تو گواہان عادل شرعی گواہی دیں کہ اس نے ہمارے سامنے یہ کاروائی کی،بغیر اس کے صرف اتنی بات کہ خط اس کے ہاتھ کا لکھا معلوم ہوتا ہے بکار آمد نہیں،ہاں اگرواقع میں یہ کاروائی اسکی تھی اور منکر ہوگیا اور گواہ نہیں تو اس کاوبال اسی پر ہے،عورت پر گناہ نہیں۔۱مبسوط امام محمد و۲خلاصہ و۳بزازیہ و٤اشباہ و۵شافی و٦ کفایہ و۷ردالمحتار میں ہے:
|
ان کتب علی وجہ الرسالۃ مصدرا معنوناوثبت ذٰلك باقرارہ او بالبینۃ |
اگر طلاق نامہ تحریر کیا ہوتو باقاعدہ سرنامہ کے ساتھ بھیجنے کے انداز میں لکھا گیا ہواور لکھنے والے کے اقرار سے یا گواہوں سے اس کا ثبوت ہوتو وُہ زبانی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع