30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
لوان امرأۃ غاب عنھازوجھا فاخبرھا مسلم ثقہ ان زوجہا طلاقھا ثلثا اومات عنھا اوکان غیرثقۃ فاتاھابکتاب من زوجھا بالطلاق وھی لاتدری ان الکتاب کتاب زوجہا ام لا'ان اکبر رأیھا انہ حق لا باس بان تعتدو تتزوج[1]۔ |
اگر کسی عورت کاخاوند غائب ہوچکا ہے تو ایك ثقہ مسلمان نے آکر کہاکہ اس کے خاوند نے اس کو تین طلاقیں دے دی ہیں،یا کہا اس کا خاوند فوت ہوگیا ہے،یا کوئی غیر ثقہ مسلمان آکر اس عورت کے خاوند کا طلاق نامہ دکھادے،عورت کو معلوم نہیں کہ یہ اس کے خاوند کا خط ہے یا نہیں،لیکن عورت کا غالب گمان یہ ہے کہ حق ودرست ہے تو عورت کو عدّت گزار کر نکاح کرلینا میں کوئی حرج نہیں۔(ت) |
ہندیہ میں ہے:
|
ذکر فی کتاب قضیۃ انکتب الخلیفۃ الی قضاتہ'اذاکان الکتاب فی الحکم بشہادۃ شاہدین شہد عندہ بمنزلۃ کتاب القاضی الی القاضی لایقبل الابالشرائط التی ذکرناھا واماکتابہ انہ ولی فلانا اوعزل فلانا فیقبل عنہ بدون تلك الشرائط ویعمل بہ المکتوب الیہ اذوقع قلبہ انہ حق ویمضی علیہ وھو نظیر کتاب ساء الرعایابشیئ من لامعاملات فانہ یقبل بدون تلك الشرائط ویعمل بہ المکتوب الیہ وقع فی قلبہ انہ حق کذاھنا[2]اھ۔واﷲتعالٰی اعلم۔ |
انہوں نے کتاب الاقضیہ میںذکر کیا کہ ااگر خلیفہ نے قاضیوں کے جام کوئی حکم نامہ بذریعہ خط جاری کیا ہو اور دو٢ گواہوں کی موجودگی میں خلیفہ نے فیصلہ اور حکم دیا،تو خلیفہ کا یہ حکم نامہ کتاب القاضی الی القاضی کی طرح ہوگا لہذا خلیفہ کاوُہ خط ان شرائط کے بغیر قابل قبول نہ ہوگا جن کو ہم نے کتاب القاضی میں ذکر کیا ہے،لیکن اگرخلیفہ کا وُہ خط کسی کی تقرری یا معزولی کے بارے میں ہوتو ان مذکورہ شرائط کے بغیر بھی قبول کرلیا جائے گا اور مکتوب الیہ اس پر عمل کرے گا بشرطیکہ مکتوب الیہ اس پر عمل کرے گا کو دلی اطمینان ہوکہ یہ درست ہے لہذا وہ عمل پیرا ہوگا،اور یہ خط،عام رعایا کی آپس کے معاملات میں خط وکتابت کی طرح ہوگا کہ مکتوب الیہ کو دلی اطمینان پر عمل جائز ہے،یہ بھی ایسے ہی ہوگا اھ۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع