30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ٢١٤: از شاہ جہان پور محمد خلیل مرسلہ مولوی ریاست علی خاں صاحب شاہ جہان پوری ١٣ذی القعدہ ١٣١٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ کا شوہر کسی دوسرے شہر میں ہے اور اس نے طلاق تحریر کرکے اور رجسٹری بھی حسبِ قانون انگریزی اس پر کراکے بذریعہ ڈاك کے پاس اولیائے ہندہ کے ارسال کی،تو اب سوال یہ ہے کہ تحریری طلاق حالانکہ اس کا غذ پر شہادر بھی گواہوں کی لکھی،یہ شرعًامعتبر ہے یا نہیں؟ اوربحالتِ عدمِ اعتبار ہندہ کونکاح ثانی اپنا دوسرے شخص سے کرنا یا ولی ہندہ کو ہندہ کا نکاح کسی شخص ثانی سے کرادینا جائز ہے یانہیں؟بیّنواتوجروا۔
الجواب:
ایسی مرسوم معہودہ تحریر مطلقًا معتبر وموجب وقوعِ طلاق ہے جبکہ بلااکراہ ہو نص علٰی ذلك فی الاشباہ والبحر والدر و الخانیۃ والھندیۃ وسائروالہندیۃ وسائرالاسفار الغر(اشباہ،بحر،دُر،خانیہ،ہندیہ اور باقی مشہور کتب میں اس کو واضح طور پر بیان کردیا ہے۔ت)تو واقع میں اگر یہ تحریر شوہر بندہ نے برضائے خودلکھی دیانۃًضرور طلاق واقع ہوگئی۔رہا یہ کہ زن واولیائے زن اس پرکہا تك کاربند ہوسکتے ہیں،اسکی تین صورتیں ہیں:
اگر شوہر اس تحریر کا اقرار کرتا ہے تو ثبوتِ طلاق ظاہر،اور اگر منکر ہے تو ہرگز معتبر نہیں جب تك حجّت شرعیہ قائم نہ ہو۔
|
فان الخط یشبہ الخط فلایعتبر والقاضی انّما یقضی بالحجۃ لابمجرد الخط وقد حققناہ فی کتاب الصوم من فتاوٰنا واکثر نا فیہ من النقول عن الائمۃ الفحول۔ |
خط،خط کے مشابہ ہوتاہ لہذا معتبر نہ ہوگا،اور قاضی دلیل کی بناء پر فیصلہ کرتا ہے صرف خط کی بناء پر فیصلہ نہیں کرے گا،اس کی تحقیق ہم اپنے فتاوٰی کی کتاب الصوم میں کرچکے ہیں اور وہاں ہم نے جلیل القدر ائمہ کرام کے اقوال خوب نقل کئے ہیں(ت) |
اور اگراقرار انکار کچھ معلوم نہیں مثلًا ہنوز اس شہر سے واپس نہ آیا اس صورت میں اکبر رائے وغلبہ ظن ان کےلئے حجت کاربندی ہے،اگر اس خط کی صحت میں شبہہ ہوتو ہندہ کو ہر گز حلال نہیں کہ اپنے آپ کو مطلقہ عمل کرسکتے ہیں،شرعًا کافی لرخصّۃ العمل ومغنی حاجت الاثبات میںفرق زمین وآسمان کا ہے،ولہذا اگر شوہر انکار واعتراض سے پیش آئے ان کی اکبر رائے کام نہ دے گی اور پھر ثبوت بہ حجت شرعیہ کی حاجت پڑے گی،خانیہ میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع