30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قول کہ میں نے طلاق حرہ کی نیّت نہ کی قسم کے ساتھ مان لیا جائے گا اور طلاق مغلّظ کا حکم نہ ہوگا۔محیط وخانیہ وہندیہ میں ہے:
|
سئل شیخ الاسلام الفقیہ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ اتریدون ان اطلقك قالت تعم فقال اگرزن منی یك طلاق دوطلاق سہ طلاق قومی اخرجی من عندی وھو یرعم انہ لم یرد بہ الطلاق فالقول قولہ۔[1] |
شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے سوال کیا گیا کہ ایك نشے والے نے اپنی بیوی سے کہا کیا تُو چاہتی ہے کہ میں تجھے طلاق دوں،تو بیوی نے کہا ہاں۔اس پر خاوند نے کہا تُو میری بیوی ہے ایك طلاق دو طلاق تین طلاق،اُٹھ میرے پاس سے دُور ہوجا۔اس کے بعد خاوند نے کہا کہ میں نے بیوی کو طلاق کی نیّت سے نہیں کہا،تو اس کی بات مان لی جائیگی(ت) |
نیز عالمگیری میں ہے:
|
فی الفتاوی رجل قال لامرأتہ اگر زن منی سہ طلاق مع حذف الیاء لایقع اذا قال لم انو الطلاق لانہ لما حذف فلم یکن مضیفا الیھا[2]۔ |
فتاوٰی میں مذکور ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو کہ اگر تُو میری بیوی ہے تین طلاق،اضافت کی یاء کو حذف کرکے کہا' تو اگر وضاحت کرتے ہوئے خاوند نے کہ میں نے بیوی کی طلاق کی نیت سے نہیں کہا،تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ یائے اضافت کو حذف کرنے پر بیوی کی طرف نسبت نہ ہوئی۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
لوقال ان خرجت یقع الطلاق اولا تخرجی الاباذنی فانی حلفت بالطلاق فخرجت لم یقع لترکہ الاضافۃ الیھا[3]۔ |
اگر خاوند نے کہا !گو تو نکے گی تو طلاق واقع ہوگی یا یوں کہا میری اجازت کے بغیر باہر نہ جانا کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھارکھی ہے،بیوی نکل گئی،تو طلاق نہ ہوگی کیونکہ اس نے قسم میں بیوی کی طلاق کو ذکر نہیں کیا۔(ت) |
بزازیہ وخانیہ میں ہے:
|
لایقع لعدم ذکر حلفہ بطلاقھا |
مذکور ہ صورت میں طلاق اس لئے نہ ہوگی کہ اس نے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع