30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طلاق واقع ہوئی تھی طلاق دی تھی تین مرتبہ نہیں کہا تھا،اشخاص موجود دین موقعوزوجہ مطلقہ بیانِ زد کی تصدیق کرتے ہیں مگر عمروہندہ وصفیہ کا بیان ہے کہ جب ہم سے ملا تھا اور ہم نے اس سے کیفیت واقعہ طلاق کو اپنے مکان پردریافت کیا تو زید نے ہمارے سامنے تین مرتبہ یہ کلمہ کہا کہ(میں طلاقی دیتا ہوں)زید بیان عمرو وغیرہ کے تصدیق نہیں کرتا بلکہ کہتا ہے عمرو وغیرہ میرے مخالف ہیں اور براہ مخالفت جو مجھ سے رکھتے ہیں یہ کہتے ہیں تاکہ میری عورت مغلظہ ہوجائے اور میں عورت سے رجوع نہ ہونے پاؤں ورنہ ظاہ رہے کہ موقع طلاق پر علیحدہ تین مرتبہ کہنے کی کوئی وجہ نہ تھی بلکہ عمرو وغیرہ نے مجھ سے کیفیت دریافت کی میں نے صورت واقعہ ظاہر کی،اس صورت میںزید بتجدید نکاح پانی زوجہ سے رجوع کرسکتا ہے یانہیں اور تحلیل کی ضرورت نہ ہوگی اور اگر موقع وقوع طلاق سے علیحدہ ہوکر دوسرے مقامپر عمرو وغیرہ کے سامنے تین مرتبہ جملہ مذکور کہنا تسلیم کیا جائے تو وُہ جملہ متصور ہوگا یا واقع کرن والا طلاق مغلظہ کا،مترصدکہ بحوالہ کتاب وحدیث سے ہدایت فرمائی جائے۔بینواتوجروا۔
الجواب:
صورتِ واقعہ اگر یُونہی ہے تو طلاق مغلظہ ہرگز ثابت نہیں،زید حرہ سے بے حاجت تحلیلِ نکاح کرسکتا ہے،عمرو وہندہ وصفیہ میں اگر ایك ہی شخص ثقہ عادل شرعی نہیں اگر چہ باقی دوبروجہ کمال عدالۃ شرعیہ رکھتے ہوں جب تو ظاہر ہے کہ نصاب شہادت کامل نہیں اور آج کل عدالۃ شرعیہ مردوں میں کم ہے نہ کہ زنان ناقصات العقل والدّین کہ اُن میں ثقہ شرعیہ ہندوستان میں شاید گنتی کی ہوں کما بیّنّاہ فی کتاب الشہادۃ من فتاوٰنا(جیساکہ ہم نے اسے اپنے فتاوٰی کی کتاب الشہادت میں بیان کیا ہے۔ت)اسی طرح اگر اُن میں کوئی شخص زید سے عدالت ظاہرہ دنیویہ اس حد پر رکھتا ہے جس کے باعث باوصف عدالت اس کے حق میں متہم ہوجب بھی حسبِ فتوٰی ائمہ متاخرین اس کی گواہی زید کے ضرر پر مقبول نہیں۔درمختار میں ہے:
|
تقبل من عدوبسبب الدین لانھا من التدین بخلاف الدنیویۃ فانہ لایا من من التقول علیہ[1]۔ |
دینی دشمن کی شہادت قبول کی جائے گی کیونکہ شہادت دینداری ہے بخلاف دنیوی دشمن کے کہ وُہ جُھوٹ بولنے سے پرہیز نہیں کرتا۔(ت) |
اسی طرح اگر زیدنے مکانِ عمرو پر وُہ جملہ اس وقت کہا ہو کہ حرہ کی عدّت گزر چکی ہو،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع