30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہوگی جبکہ دو٢ کی صورت میں اسے پہلے دو٢ اور تین٣ کی صورت میں پہلے ایك یادو٢ نہ دے چکاہوورنہ ایك یا دو٢ مدخولہ پر پڑکر باقی ایك غیرمدخولہ پر پڑجائیں گی،اور اگر دونوں کو دینا بتاتا ہے تو غیرمدخولہ پرایك ہی پڑے گی اگرچہ اس ر تین میں سے دو٢ بتاتا ہو باقی مدخولہ پر بشیرن تین کی صورت میں اُسے پہلے دو٢ نہ دی ہوں ورنہ اس پر بھی ایك پڑیگی اور ایك عبث۔غرض تقسیم طلاق وتخصیص غیرمدخولہ کے احکام یکساں ہوں گے۔خانیہ میں ہے:
|
لوکان لہ امرأتان لم یدخل بھما فقال امرأتی طالق امرأتی طالق بانتاوان قال اردت واحدۃ منھما لایصدق وکذالو قال امرأتی طالق وامرأتی طالق وکذا العتق ولوکان دخل بھما فقال امرأتی طالق امرأتی طالق کان لہ ان یوقع الطاقین علٰی احدٰھما[1]۔ |
ایك شخص کی دو٢ بیویاں ہیں دونوں سے دخول ابھی نہیںکیا تو اس کی تصدیق نہ کی جائیگی،اور یُونہی اگراس نے کہا میری بیوی کو طلاق اور میری بیوی کو طلاق یعنی عطف کے ساتھ دونوں جُملے کہے تو بھی یہی حکم ہے۔یونہی اپنے دو٢ غلاموں کے بارے میں عتق کے لئے ایسے کہا تو دونوں آزاد ہوجائیں گے،اور اگر دونوں بیویوں کو دخول کرچکا ہوتوان کو"میری بیوی کو طلاق،میری بیوی کو طلاق"کہا تو خاوند کو اس صورت میں یہ اختیار ہوگا وُہ دونوں طلاقوں کو ایك بیوی کے لئے قراردے۔(ت) |
جو ہمارے اس بیان کو سمجھ لے وُہ اس مسئلہ کے تمام باقی صدہا صور کے بھی احکام نکال سکتا ہے مثلًا دو٢ زوجہ کی حالت میں یہ لفظ چار٤ یا پانچ٥ یا چھ٦ بارکہا تین کی حالت میں دو٢ سے نو تك یا چار٤ کی صورت میں دو٢ سے بارہ١٢ تك کہ اس سے زائد جو کچھ ہے وُہ مطلقا فضو ل ہوگا کما لایخفی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔ت)۔رہا ایك ہی بار کہنا اس کا حکم سب صورمیں یہی ہے کہ جس پرچا ہے ڈال سکتا ہے کہ کم سے کم ایك کی صلاحیت تو ہر زوجہ میں ضرور ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ٢١٠:ازبھیکم پور کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ حرہ کو یہ ہدایت کی فلاں رشتہ دار میرا تیرا دشمن ہے لہذا تو اس سے مراسم اتحاد ترك کر،زوجہ نے نہ مانا،زید نے بموجودگی چند اشخاص زوجہ کو طلاق دی اور عدت منقضی ہوچکی ہے،اب زید رجوع کیا چاہتا ہے اور کہتا ہے میں نے ایك یا دو٢ بار اس موقع پر جہاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع