دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 12 | فتاوی رضویہ جلد ۱۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۲

نہ کریں گے۔

چہارم جس کے پاس دو٢زوجہ ہوں اور وُہ بلاتعیین اپنی عورت کو طلاق دے تو اسے اختیار ہے کہ وہ طلاق اُن میں سے جس کی طرف چاہے پھیرے تعیین مطلقہ میں اس کا بیان معتبر ہوگا جب تك اس کے قبول میں کلام کا لغو ہونا نہ لازم آتا ہو۔

یہ چاروں اصول جابجا کُتبِ فقہ میں مصرح ہیں،پس اگر چھمّی بشیرن دونوں مدخولہ ہیں تو اب ان میں سے جس کی تخصیص کرے گا دویاتین جتنی طلاقیں دی ہیں سب اسی پر پڑیں گی دوسری پر کچھ نہیں بشرطیکہ وہ اتنی طلاقوں کی صلاحیت رکھتی ہو مثلًا دوبار لفظ مذکور کہاتو اب جس کی تخصیص کرتا ہے اُسے دو٢ طلاقیں کبھی نہ دی ہوں یا تین بار کہا تواصلًانہ دیں ہوورنہ جس قدراس کی صلاحیت ہے اُتنی اس پر باقی دوسری پر پڑیں گی جبکہ اس میں کل باقی کی صلاحیت ہوورنہ ایك طلاق بنا چاری لغو ٹھہرے گی مثلًا دوبار کہا اور چھمّی کی تخصیص کی اور اسے پہلے دو٢ بار دے چُکا تو اس بار پر ایك ہی پڑکر وہ تین طلاقوں سے مطلقہ ہوجائے گی،اور اگر تین اور اس سے پہلے ایك دے چکا تھا تو اب اس پر دو٢ ہی پڑکر تین ہوجائیں گی اور دونوں صورتوں میں باقی ایك بشیرن پر پڑے گی،اور اگر چھمّی کو دو دے چکا تھا تو اب تین بار کہا تو اس پر ایك پڑکر تین ہوگئیں اور باقی دو٢ بشیرن پر پڑیں گی جبکہ بشیرن پرپڑیں گی جبکہ بشیرن کو پہلے دو٢ نہ دے چکاہو ورنہ ان دو٢ باقیماندہ سے ایك ہی بشیرن پر پڑکر اس کی بھی تین ہوجائیں گی اور ایك مجبورًا لغو ہوجائے گی اس کے لئے کوئی محل نہیں،اوراگر دونوں کو دینا بتاتا ہے تو ہر ایك پر ایك ایك تو ضرور پڑے گی،رہی تیسری،اگر اس کی صلاحیت کسی میں نہیں تو لغوجائے گی اور خاص ایك میں ہے تو اُسی پر ضرور پڑے گی اور دونوں میں ہیں تو وُہ جسے بتائے گا اس پر ہوگی مثلًا چھمی بشیرن دونوں پہلے دو٢ دو٢ طلاقیں پاچکی تھیں تو اب ہر ایك پر ایك ایك پڑکر تین تین ہوگئیں تیسری بیکار،اوراگر مثلًاچھمّی کو دو٢ ہوچکی تھی اور بشیرن کو ایک،تو یہ تین جو دونوں کو دیں ان میں کی دو٢ خاص بشیرن پرپڑیں گی اور چھمّی پر ایک،اگر چہ وہ اس کا عکس بتاتا ہوکہ میں نے چھمّی پر دو٢ ڈالیں اور بشیرن پر ایک۔اور اگر دونوں ایك ایك طلاق ہوچکی تھی یا ایك بھی نہ ہوئی تھی یا ایك کو ایک،دوسری کو اصلًا نہ ہوئی تھی تو دونوں ان تینوں میں سے دو٢ کی قابل ہیں جس پر دو٢بتائے گا اس پر ان کی دو٢ پڑیں گی،اور جس پرایك اس پر ایک۔اور اگر دونوں غیر مدخولہ ہیں تو ایك کی تخصیص اصلًا قبول نہ ہوگی کہ باقی کو لغویت لازم آتی ہے بنلکہ ہر طرح دونوں پر ایك ایك پڑے گی،اور اگر تین بار کہا تھا تو تیسری عبث جائے گی۔اور اگر مدخولہ وغیر مدخولہ ہیں اور تخصیص غیر مدخولہ کی کرتا ہے تو مقبول نہ ہوگی بنلکہ دو٢ کی صورت میں دونوں پر ایك ایك پڑے گی اور تین کی صورت میں غیر مدخولہ کی کرتا ہے تو مقبول نہ ہوگی بلکہ دو٢ کی صورت میں دونوں پر ایك ایك پڑے گی اور تین کی صورت میں غیر مدخولہ پر ایك اور باقی دو مدخولہ پر اگر اسے پہلے دو٢ نہ دے چکا ہو ورنہ اس پر بھی ایك ہی،اور تیسری بیکار۔اور اگرتخصیص مدخولہ کی کرتا ہے تو مقبول


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن