30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
شیخ الاسلام عن اشارۃ محمد انہ یملك الصرف الی واحدۃ ان اراد فقط افاادانہ یملك التفریق ان شاء والثلاث والاربع والاثنان فی ذلك سواء ولیس قولہ طلقت طلقت طلقت أوامرأتہ طالق امرأتہ طالق امرأتہ طالق کقولہ طلقت امرأتی ثلاثا،او امرأتی طالق ثلاثا فان ھنا قد افھم المغلظۃ فلایملك التخفیف بالتفریق مع ان المروی عن الامام فیہ ایضا خیار التفریق غیر انہ تقع علی کل منھن واحدۃ بائنۃ لئلایلغٰی وصف الاصل فی ردالمحتار رأیت بخط شیخ مشائخنا السائحاتی عن المنیۃلوکان الرجل ثلاث نساء فقال امرأتی ثلاث تطلیقات یقع ثلاث لکل واحدۃ وعندابی حنیفۃ رضی اﷲتعالٰی عنہ لکل واحدۃ منھن طلاق بائن وھو الاصح ١[1]اھ اقول: ای الا اذابین وعین احدٰھن فعلیھا الثلاث |
دلیل بزازیہ کی گزشتہ عبارت شیخ الاسلام سے منقول کہ امام محمد نے اس میں اشارہ فرمایا کہ خاوند کو ایك ہی بیوی پر دونوں طلاقوں کو صرف کرنیکا اختیار ہے اگر چاہے تو واضح ہُوا کہ انہوں نے افادہ کیا کہ خاوند اگر چاہے تو ان طلاقوں کو اپنی متعدد بیویوں پر متفرق کرسکتا ہے اس میں بیویوں کی تعداد دو٢ یا تین چار ہونے میں کوئی فرق نہیں،اور خاوند کا"میں نے طلاق دی"میں نے طلاق دی"یا یوں"میری بیوی طلاق والی ہے"تین بارکہنا،اس کاحکم وُہ نہیں جو"میں نے بیوی کو تین طلاقیں دیں"یا"میری بیوی تین طلاقی والی ہے"کا حکم ہے کیونکہ آخری دونوں الفاظ میں طلاق مغلظ مفہوم ہوتا ہے،تو اب اس مغلظہ کو متعدد بیویوں پر تقسیم کرکے مخفّفہ نہیں بناسکتا(لہذا یہ تین ایك ہی بیوی کےلئے قرار پائیں گی)حالانکہ امام سے اس مسئلہ میں بھی مروی ہے کہ انہوں نے یہاں بھی تفریق کا اختیار خاوند کو دیاہے صرف اس میں یہ بات فرمائی کہ ہر ایك بیوی کو ایك طلاق بائنہ ہوگی تاکہ اصل طلاق کا وصف لغو نہ جائے۔ردالمحتار میں ہے کہ میں کہ میں نے شیخ المشائخ سائحاتی کے خط میں دیکھا انہوں نے منیۃ الفقہاء سے نقل کیا کہ اگر ایك شخص کی تین بیویاں ہوں اور وُہ کہے"میری بیوی کو تین طلاقیں ہیں"تو اس کی تینوں بیویوں میں سے ہر ایك کو تین تین طلاقیں واقع ہونگی،اور امام ابو حنیفہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کے نزدیك ہر ایک |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع