30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
خیار التعیین[1]۔ |
ہوگی ان میں سے طلاق کے لئے ایك معین کرنے کا اختیار خاوند کو حاصل ہوگا۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
لافرق فی ذلك بین المعلق والمنجز وکذا لافرق بین حلفہ مرۃ اواکثرفلہ صرف الاکثرالی واحدۃ ففی البزازیۃ عن فوائد شیخ الاسلام قال حلال اﷲعلیہ حرام ان فعل کذاوفعلہ وحلف بطلاق امرأتہ ان فعل کذاوفعلہ ولہ امرأتان فاراد ان یصرف ھذین الطلاقین فی واحدۃ منھا اشارفی الزیادات الی انہ یملك ذلک[2]۔ |
مذکورہ صورت میں طلاق معلّق ہو یا غیر معلّق ہو اور یونہی یا متعدد بار کہنے میں کوئی فرق نہیں،ایك سے زائد طلاقوں کو ایك ہی بیوی کے لئے مراد لینے کا بھی خاوند کواختیار ہے،تو بزازیہ میں شیخ الاسلام کے فوائد سے منقول ہے کہ اگر خاوند نے کہاکہ اﷲ تعالٰی کی حلال کی ہوئی چیز مجھ پر حرام ہے اگر میں فلاں کام کروں،اور پھر اس نے وہ کام کرلیا اور اس کے بعد پھر اس نے کہااگر میں فلاں کام کروں تو میری بیوی کو طلاق،پھراس نے وُہ کام کرلیا،تو ان دونوں قسموں کے بعد خاوند کو دو٢ بیویوں کی صورت میں اختیار ہے ان دونوں طلاقوں کو ایك بیوی کے لئے قرار دے،زیادات میں خاوند کو اس اختیار کامالك قرار دینے کا اشارہ دیا ہے۔(ت) |
اور جبکہ وُہ خالی الذہن تھا کسی لفظ سے کسی عورت کی نیت نہ تھی لیکن یہ الفاظ خالی نہیں جاتے اور شرع اسے تعیین کا اختیار دیتی ہے تو ظاہر اس پر لازم نہیں کہ تینوں طلاقیں ایك ہی عورت پر ڈالے بلکہ ایك پر ایك اورایك پر دو٢ڈال سکتا ہے اوردونوں پر یہ طلاق رجعی ہونی چاہئے جبکہ اسے سے پہلے دو٢والی کو ایك اور ایك والی کو دو٢ طلاقیں نہ دے چکا ہو،پھر اگر دونوں کو اپنے نکاح میں رکھنا چاہے تو عدّت کے اندر رجعت کرلے دونوں بدستور اس کی زوجہ رہیں گی،ہاں آئندہ کبھی اگر دو٢ والی ایك یا ایك والی کو دو٢ طلاقیں دے گا تو تین ہوجائیں گی اور پھر بے حلالہ اس سے نکاح نہ کرسکوں گا۔
|
اقول: والد لیل علی جواز التفریق مامر عن البزازیۃ عن |
اقول:(میں کہتا ہوں)مذکورہ صورتوں میں طلاقوں کو بیویوں پر متفرق کرسکتا ہے اور اس کے جواز کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع