30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ابیہ بطلاق امرأتہ اذالم تکن لامہ أولضرتھا لانھا شہادۃ علی ابیہ وان کان لامہ اولضرتھالاتجوز لانھا شھادۃ لامہ[1]۔ |
دی تو بیٹے کی اپنے باپ کے خلاف شہادت مقبول ہوگی بشرطیکہ جس کو طلاق دی گئی ہو وہ اس بیٹے کی ماں یاماں کی سہیلی نہ ہو،یہ شہادت باپ کے خلاف ہونے کی وجہ سے مقبول ہوگی اور اگر بیٹے کی ماں یا اس کی سہیلی ہوتو پھر بیٹے کی یہ شہادت مقبول نہیں کیونکہ اگرچہ باپ کے خلاف ہے لیکن ماں کے حق میں ہے۔(ت) |
اور بالفرض اگر یہ لڑکا بالغ اور بھاوج اور وُہ دوسری عورت سب ثقہ عادل ہوں بھی تو دو٢طلاقیں ثابت ہوسکتیں کہ اسی قدر تینوں شاہدوں کا اتفاق ہے لیکن یہ مذہب صاحبین کا ہے ہمارے امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ کے نزدیك اب بھی شہادت مقبول نہیں کہ دو٢ اور تین٣ میں اختلاف ہے اور اختلاف شہود موجب رَدِّشہادت۔ہدایہ میں ہے:
|
یعتبر اتفاق الشاھدین فی اللفظ والمعنی عندابی حنیفۃ فاذاشہد احدھمابالف والاٰخربالفین لم تقبل الشہادۃ عندہ وعندھما تقبل علی الالف اذاکان المدعی یدعی الفین وعلی ھذاالطلقۃ والطلقتان والطلقۃ والثلث[2]۔ |
امام ابوحنیفہ رضی اﷲتعالٰی عنہ کے نزدیك دونوں گواہوں کا لفظ اور معنٰی میں اتفاق معتبر ہے لہذا اگرا یك گواہ نے ایك ہزار کہا اور دوسرے نے دوہزار کہا تو یہ شہادت امام صاحب کے نزدیك مقبول نہ ہوگی،اورصاحبین رحمہا اﷲتعالٰی کے نزدیك مذکورہ صورت میں ایك ہزار پر دونوں گواہوں کی شہادت قبول کرلی جائے گی بشرطیکہ مدعی نے دوہزارکا دعوٰی کیا ہو،یُوں ہی ایك طلاق اور دوطلاق کا یا ایك اور تین طلاقوں میں(گواہوں کا اختلاف ہوتو امام صاحب کے نزدیك اس اختلاف میں کوئی طلاق ثابت نہ ہوگی)۔(ت)تو ثابت ہواکہ صورت مستفسرہ میں اصلًا طلاق ثابت نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ٢٠٦: از گلاوٹھی ضلع بلند شہر مدرسہ اسلامیہ مرسلہ مولوی کریم بخش صاحب مدرس ٩ذیقعدہ ١٣١٧ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں ك ایك عورت کا باین ہے کہ میرے شوہر نے مجھ کو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع