30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
فی الاوسط کابی یعلی بسند صحیح عنابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہم اجمعین۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
تعالٰی عنہ سے،اوراوسط میں ابویعلٰی کی طرح صحیح سند سے ابن عباس رضی اﷲتعالٰی عنہ سے مروی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ ت) |
مسئلہ٢٠٥:از پکھریرضلع مظفر پور محلہ نورالعین شاہ شریف آباد رائے پور مظفر پور مرسلہ شریف الرحمٰن صاحب ٣شعبان ١٣٣٦ھ
ہندہ کہتی ہے کہ مجھے میرا شوہر شیخ اسمٰعیل نے بیکدم پانچ طلاق دی ہے اور ایك ماں اور ایك بھاوج اور ایك غیر عورت بالغ اور ایك لڑکا بارہ چودہ سالہ گواہ رکھتی ہے اس کی مائی کہتی ہے کہ ہاں پانچ طلاق دی ہے اور بھاوج کہتی ہے کہ پانچ طلاقی دی ہے،غیر عورت موجودہ کہتی ہے کہ دو٢ دی ہے،لڑکاکہتا ہے کہ تین٣دی ہے،اور یہ بھی کہتا ہے کہ وہاں مسمّاۃ مورن بھی تھی مسمّاۃ مورن کہتی ہے کہ طلاق نہیں دی ہے،اور پڑوس موجودہ لوگ سب بیك زبان کہتے ہیں کہ طلاق نہیں دی ہے،اور اسمٰعیل شوہرِ ہندہ کہتا ہے کہ میں حلفًاکہتا ہوں کہ میں نے ہندہ کو طلاق نہیں دی ہے اور نہ دُوں گا،ہندہ اور ہندہ کی ماں اور بھاوج باہمی سازش سے مجھ پر تہمت جھوٹی کی ہے چونکہ میں بیمار تھا ہندہ کواپنی خدمت کے لئے تنبیہ ومجبور کرتا تھا اس لئے مجھ سے ناراض ہوکر جُھوٹی تہمت مجھ پر کی ہے۔
الجواب:
صورتِ مذکورہ میں طلاق ثابت نہیں کہ اگر وُہ لڑکا بالغ ہو یا وُہ خواہ بھاوج خواہ وُہ دوسری عورت کہ دو٢ طلاق کہتی ہے ثقہ عادل شرعی نہ ہوں جب توظاہر یہاں تك کہ اگر یہ لڑکا بالغ اور یہ اور ماں اور بھاوج سب ثقہ عادل ہوں فقط وُہ غیر عورت ثقہ نہ ہو جب بھی طلاق اصلًا ثابت نہ ہوگی پہلی صورت میں اس لئے کہ صرف عورتیں ہیں اور تنہا عورتوں کی گواہ مقبول نہیں اوردوسری صورت میں اس لئے کہ عدالت نہیں اور تیسری صور ت میں اس لئے کہ ماں گواہی بیٹی کے حق میں نہیں۔درمختار میں ہے:
|
لاتقبل شہادۃ الفرع لاصلہ وبالعکس[1]۔(ملخصًا) |
فرع(اولاد)کی شہادت اصلا(والدین اور اوپر)کے حق میں اور اس کا عکس ہوتو بھی مقبول نہیں(ملخصًا)۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
فی الولوالجیۃ تجوز شہادۃ الابن علی |
ولوالجیہ میں ہے کہ باپ نے اگر اپنی بیوی کو طلاق |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع