30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سابقہ طلاق واحد کو تین طلاقوں کی مقر ہوئی،چونکہ زید برادری والا آدمی ہے،پنچایت میںیہ مقدہ پیش ہوا اور گواہوں نے بیان کیا،مجھے یاد نہیں ہے کہ زید نے طلاق واحد دی تھی یا طلاق ثلاثہ،اس وقت پنچایت میں زید سے قسم لی گئی،زید نے طلاقِ واحد کی قسم کھالی،ہندہ پھر زید کی زوجیت میں چند روز رہی،بعد ازاں ہندہ پھر فرار ہوکر اور دوگواہ بے نمازی دانمی وار شراب خوارو زانی ایك برادری ودیگرے قوم دیگر کچہری دیوانی میںپیش کرکے مقدمہ دائر کرکے ڈگری حاصل کرلی اور اس شخص کے مکان پر رہتی ہے جو کہ زید کا شریك تھا اور اسی کے ورغلانے کاگمان غالب تھا،پس صورتِ مسئولہ میںہندہ کے گواہ مذکورہ کچہری کا قول معتبر ہوگایا کہ گواہ اول پنچایتی برادرنِ زید کا قسم معتبر ہوگا اور اہلِ برادری کو زید کے شریك جہاں ہندہ رہتی ہے اور اسی کے ورغلانے کا تمام اہلِ برادری کو اور زید کو گمان غالب ہے تنبیہًا خاندان ترك کردینا جائز ہے یانہیں ؟ اور ہندہ زوجہ زید ہوسکتی ہے یانہیں؟
الجواب:
اگر یہ بیان واقعی ہے تو پنچایت کا فیصلہ حق تھااس کے بعد ہندہ کا چند روز اس پر کاربند رہ کر اغوائے شیطان سے پھر فساد اٹھانا اور دو٢فاسق گواہ پیش کرکے کچہری سے ڈگری لینا اسے شرعًا کچھ مفید نہیں،ہندہ بدستور زوجہ زید ہے،اور شریك زید پر اگر ہندہ کے اغواکا ثبوت ہوتو اہلِ برادری ضرور اسے برادری سے خارج کریں اُس سے میل جول چھوڑدیں اس کے پاس نہ بیٹھیں۔ اﷲعزّوجل فرماتا ہے:
|
اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ فَلَا تَقْعُدْ بَعْدَ الذِّکْرٰی مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۶۸﴾[1]۔ |
اگر تجھے شیطان بُھلادے تو یاد آئے پر ظالموں کے پاس نہ بیٹھ۔ |
رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
لیس منّا من خبب امرأۃ علٰی زوجھا٢[2]رواہ ابُوداؤد والحاکم بسند صحیح عن ابی ھریرۃ والطبرانی فی الصغیرونحوہ فی الاوسط عن ابن عمرو |
ہمارے گروہ سے نہیں جوکسی کی عورت کو اس سے بگاڑدے(اس کو ابوداؤد اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ ابوہریرہ رضی اﷲتعالٰی عنہ سے اور طبرانی نے صغیر اور اس کی مثل اوسط میں ابن عمر رضی اﷲ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع