30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہاں دعوی طلاق کرکے فورًا جدائی کرالے اگر وہ نہ کرے تو جو مسلمان اس پر اطلاع رکھتا ہے اس پر فرض ہے کہ دعوٰی کرکے اُن میں جدائی کرادے اس میں ہر مسلمان کودعوٰی اختیار ہے بلکہ اگر کوئی شخص دعوٰی نہ کرے تو جن جن کے سامنے زید نے طلاق دی تھی اُن پر فرض ہے کہ قاضی کے یہاں حاضر ہوکر گواہی دیں اور اگر اُن میں دو٢ گواہ قابل قبول شرع ہوں تو قاضی پر فرض ہے کہ بغیر کسی مدعی کے ان کے شہادت سُن لے اور اُن مردوعورت کر جبرًا جُدا کردے۔اشباہ والنظائر میں ہے:
|
تسمع الشہادۃ بدون الدعوی فی الحد الخالص وفی الطلاق والایلاء والظہار١[1]۔ |
خالص حد،طلاق،ایلاء اور ظہار میں بغیر دعوٰی بھی شہادت قبول کی جاسکتی ہے۔(ت) |
درمختارمیں ہے:
|
تقدم الدعوی فی حقوق العباد شرط قبولا بخلاف حقوق اﷲتعالٰی لوجوج اقامتھا علی کل واحد فکل احد خصم فکان الدعوی موجودہ٢[2]۔(ملخصًا) |
حقوق العباد میں شہادت قبول کرنے کے لئے پہلے دعوٰی پایاجانا شرط ہے بخلاف حقوق اﷲ کے کہ ہر ایك پر واجب ہے کہ ان کو قائم کرے اس لئے حقوق اﷲ معاملہ میں ہر ایك فریق ہوسکتا ہے،گویا کہ دعوٰی موجود قرار پائے گا۔(ت) |
ہاں واقع میں زید نے طلاق نہ دی اور ہندہ کا باپ جُھوٹا دعوٰی طلاق کرکے جُدا کرانا چاہتا ہے تو ہو سخت عذات کا مستحق ہوگا۔والعیاذباﷲ،واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٠٤:ازبلرامپورڈاك خانہ خاص ضلع گونڈہ محلہ پھاٹك جانب اوتر سرائے بختہ مرسلہ نور محمد آتشباز ٢٤صفر ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید خواندہ آدمی ہے عرصہ پندرہ سولہ سال کا گزرتا ہے کہ زید نے اپنی بی بی ہندہ کو بوجہ وجوہ طلاق واحد تنبہًا دی اور بعد گزرنے گزرنے پندرہ یوم کے دونوں میاں بیوی نے رجعت کرلی اور آج تك زید کی زوجیت میں رہی اتفاقًا بعد سولہ برس کے دونوں میں نااتفاقی بوجہ ورغلانے ایك شخص کے جوزید کی تجارت میں شریك تھا ہوگئی اور زدی کے مکان سے فرار ہوگئی بعد چندس روز کے واپس آئی اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع