دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 12 | فتاوی رضویہ جلد ۱۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۲

بکر وعمر کا بیان کہ ہمیں خط لکھے اگرچہ وُہ دونوں ثقہ عادل بھی ہون اگرچچ بکر پر اُس اظہار ِخواہش کے سبب اس امر میں کوئی اپنی غرض وتہمت بھی نہ ہو اصلاقابلِ التفات نہیں کہ کوئی کسی کو اسکے سامنے خط نہیں لکھا کرتا ڈاك میں آئے یا قاصد لایا بہر حال اُن کا یہ اظہار اسی مشابہت خط یا بیان ایلچی پر مبنی ہوگا اور یہ کوئی شہادت شرعیہ نہیں کما لایخفی علی ادنی خادم للفقہ وقد بیناہ فی رسالتنا الازکی الاھلال(جیسا کہ یہ بات علم کے ادنٰی خادم پر مخفی نہیں ہے اور اس کو ہم نے اپنے رسالہ ازکی الاھلال میں بیان کیا ہے۔ت)یہ جو کچھ گزرا دربارہ حکم قضا ہے یعنی جب تك اُن دوجوہ شہادت واقرار میں کسی وجہ سے ثبو ت نہ ہو حکمِ طلاق نہ دیا جائے گا،عورت کو حرام ہے کہ باوصت انکار شوہر ایسی مہمل خبر پر،اپنے آپ کو مطلّقہ سمجھ کر کوئی کاروائی آزادی کرے،مردوں کا حرام ہے کہ اسے مطلّقہ ٹھہرا کر قصدِ تزوّج کریں،مگر فی الواقع اگر زیداس انکر میں جھوٹا ہے تو اس کا حساب لینے والا خدا ہے عورت اس وبال سے پاك وجد ہے خدا سے ڈرے اور حق ظاہر کرے واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلہ جل مجدہ اتم۔

مسئلہ ٢٠٢:                             مرسلہ حکیم حسین خاں از بریلی محلہ فراشی ٹولہ             ٢٠رجب ١٣٣٥ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین حامی شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید نے عرصہ ساڑھے تین سال سے رنڈی کے ساتھ نکاح کرلیا اور ہندہ قدیمہ زوجہ کو اذیّت و تکلیفر دیتا رہا حتی کہ ایك روز سال گزشتہ ١٤مئی ١٩١٦ء کو بمواجہہ دو شخص عاقل وبالغ مسلم عمروبکر جو کہ اس کے قرابت دار ہیں زید نے ہندہ سے کہا کہ مجھے١دو٢عورت کی استطاعت نہیں،میں٢اپنے پسند سے رنڈی لے آیا اور تو٣میرے مطلب کی نہیں،میں٤تجھ کو رکھنا نہیں چاہتا ہوں،تجھ٥کو میں نے طلاق دی،تو٦میرے پاس سے چلی جا،تجھ٧کو اختیار اپنا ہے جو چاہ سوکر،مجھ٨کو اپنا اختیار ہے کہ میں نے رنڈی سے نکاح کرلیا اب زید طلاق سے انکار کرتا ہے اور نہ بلاتا ہے اور نہ آتا ہے اور نہ روٹی کپڑا دیتا ہے اور وُۃ دونوں شخص مقر ہیں اور زید کہتا ہے کہ میں ہندہ کو خوب دق کرونگا،اور ہندہ صبر وتحمل سے عاجز ہوکر نکاح ثانی کرنا چاہتی ہے پس بحکم شرع شریف طلاق ہوئی یا نہیں،اور الفاظ مذکور ہ سے کتنے طلاق واقع ہوئے اور ہندہ بعد عدّت نکاح ثانی کرسکتی ہے یانہیں،شمارِ عدّت کب سے ہوگا اور دین مہر کی مستحق ہے یانہیں؟ بینوا توجروا

الجواب:

جاہلوں سے فتوٰی لینا حرام ہے،مخالفانِ دین کو طرف رجوع کرناسخت اشد حرام ہے،اس طلاق کو رجعی سمجھنا سخت جہالت ہ،اور عدّت اس وقت سے شروع نہ جاننا اگر یہ طلاق بحالت حیض ہوبلکہ جب یہ حیض ختم ہو اس کے بعد کا طُہر ختم ہو جدید حیض شروع ہو اس وقت سے عدّت کا آغاز لینا دوسری جہالت ہے


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن