30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دیں اور منکر ہوگیا اور گواہ عادل نہیں ملت تو عورت جس طرح جانے اس سے رہائی لے اگر چہ اپنا مہر چھوڑکر،یا اور مال دے کر،اور اگر وُہ یُوں بھی نہ چھوڑے تو جس طرح بَن پڑے اس کے پاس سے بھاگے اور اُسے اپنے اُوپر قابو نہ دے۔اور اگر یہ بھی نہ ممکن ہو تو کبھی اپنی خواہش سے اس کے ساتھ زن وشو کا برتاؤ نہ کرے نہ اس کے مجبور کرنے پر اس سے راضیہو پھر وبال اس پر ہے، لَا یُکَلِّفُ اللہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَاؕ[1] (اﷲتعالی وسعت کے مطابق ہی کسی جان کو تکلیف دیتا ہے۔ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ٢٠١: از گنج مراد آباد ضلع اوناؤ مرسلہ چیخ حرمت علی صاحب ٢١ ذیقعدہ ١٣١٥ھ
چہ می فرمایند علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عرصہ قریب دوسا ل کہ ہوتا ہے کہ زید نے اپنی زوجہ ہندہ کے بارےمیں بکر اور عمر کو خط لکھے ہیں کہ میں ہندہ کو طلاق دی اُس کو اب اختیار حاصل ہے،ل اب زید آیا اور وُہ حلفیہ بیان کرتا ہے میں نے بکر اور عمر کو خط نہیں لکھے اور وُہ خط ہندہ کے پاس بکر نے رکھ دئے تھے اب گم ہوگئے اور اسی دریافت میں زید نے بکر سے کہا تم نے خود خواہش ظاہر کی تھی کہ ہندہ کو طلاق دو تب میں نے طلاقی نہیں دی ہندہ بھی اقرار کرتی ہے کہ زید سے بکر نے خواہش ظاہر کی تھی فقط،بینواتوجرواباحسن الثواب۔
الجواب:
ایسے خطوط سے ثبوت طلاق دوامر پر موقوف یا تو شوہر اقرار کرے واقعی میں نے یہ خط لکھا تھا یا دو٢ مرد خواہ ایك مرد دو٢ثقہ شرعیہ دیں کہ ہمارے سامنے شوہر نے خط مذکور لکھا،اشباہ وغیرہا ہے:
|
ان کتب علی وجہ الرسالۃ مصدار معنویا وثبت ذلك باقرارہ او بالبیّنۃ فکالخطاب[2]۔ |
اگر خاوند نے تحریری طلاق کو طلاق نامہ کے انداز سے معنون کرکے ارسال گیااور اس کے اقرار یا گواہوں سے ثابت ہوجائے کہ طلاق دی ہے تو زبانی طلاق کی طرح نافذ ہوگی۔ (ت) |
پس صورتِ مستفسرہ اگر شہادت معتمدہ سے بروجہ کافی تحریر خط ثابت ہوتو الفاظ مذکورہ سوال ایك سے تین تك جتنے خطوں میں لکھنے کا ثبوت تا بقائے عدت ہو اسی قدر طلاقیں وقتِ تحریر سے پڑنے کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع