30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ١٩٧: از شہر کہنہ ١٢صفر ١٣٢١ھ
کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی منکوحہ کو جس کوعرصہ قریب تین سال کے ہوا طلاق دے دی،طلاق ہوجانے کا اقرار بکر نے زبانی عورت مطلّقہ اور نیز عورت مذکورہ کے بھائیوں کی زبانی سُنا ہے،اب بکر مذکور اپنا نکاح اس عورت سے کیا چاہتا ہے،لہذا شرع کا کیا حکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب:
سائل نے بیان کیا کہ عورت اور اس کے بھائی تین طلاقیں اُتنی مدّت سے ہونا بیان کرتے ہیں اور اب زید سال بھر غائب ہے اس صورت میں بکر کو چاہئے کہ اپنے دل کی طرف غور کرے،اگر عورت اور اس کے بھائیوں کا بیان دل پرجمتا ہو کہ یہ لوگ اس میں سچّے ہیں اور کوئی فریب نہیں کرتے تو بکر کو اختیار ہے کہ اس عورت سے نکاح کرلے جبکہ وہ اس طلاق کے بعد عدّت بھی گزرجانا بیان کرتی ہو یعنی طلاق کے وقت اگر حاملہ ہونا کہے جب تو ظاہر ہے کہ تین سال کے قریب زمانہ گزرا ضرور وضعِ حمل ہوکر عدّت،گزرگئی،اور اگر حمل نہ تھا تو عورت یہ بیان کرے کہ طلاق کے بعد اسے حیض تین بار شروع ہوکر ختم ہوچکا ہے،اور اگر بکرکے دل پر اُن کا سچ نہ جمے فریب معلوم ہوتا ہوتوہرگز نکاح نہ کرے،
|
فی الھندیۃ عن الذخیرۃ لوان امراۃ قالت لرجل ان زوجی طلقنی ثلثا وانقضت عدتی فان کانت عدلۃ وسعہ ان یتزوجھا وان کانت فاسقۃ تحری وعمل بما وقع تحریہ علیہ[1]۔ |
ہندیہ میں ذخیرہ سے منقول ہے،اگر ایك عورت نے کسی مرد کو کہا کہ میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں اور عدّت بھی گزرچکی ہے،تو اگر عورت عادلہ ہے تو اس شخص کو اس پر اس عورت سے نکاح کرناجائز ہے،اور اگر وُہ عورت فاسقہ ہے تو پھر وُہ شخص غورفکر کرے اور غوروفکر کے نتیجہ پر عمل کرے۔(ت) |
اس کی ضرورت اس وجہ سے ہے کہ آج کل عادل شخص کا ملنا دشوار ہے ورنہ اگر عورت عادلہ ہو تواس کا صرف اتنا بیان ہی کہ مجھے طلاق ہوگئی اور عدّت گزرگئی جواز کے لئے کافی ہے واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٩٨: قاضی عبدالغنی صاحب از ڈیڈوانہ مارواڑ محلہ قاضیخان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین شرع متین کہ زید نے ہندہ سے نکاح کیا اور بسبب دلی رنجش کے بہ رُوبرو دوتین شخص کے حرفِ طلاق مکررسہ کرر زبان پر لایا،ہندہ کے پاس ایك طفلِ شیر خوار تھا اس وجہ سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع