30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ومنھا تقدم ذکر الطلاق بحر عن المحیط[1]۔ |
طلاق کا ذکر ہونا ہے،محیط سے منقول بحر میں۔(ت) |
اسی میں ہے:
|
فی النھر دلالۃ الحال تعم دلالۃ المقال فتفسر المذاکرۃبسؤال الطلاق او تقدیم الایقاع کما فی اعتدی ثلاثا [2]۔ |
نہر میں ہے کہ دلالتِ حال،دلالتِ قول کو شامل ہے،لہذا اس کی تفسیر یُوں درست ہے کہ طلاق کے مطالبہ کے طور مذاکرہ،یا پہلے طلاق واقع کرنا،مثلًا عدّت پوری کر تین کی۔(ت)اسی طرح اور مواقع میں ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
مسئلہ ١٩٣: از شاہ گڈھ ڈاکخانہ شب نگر ضلع پیلی بھیت مرسلہ عبدالرحمٰن صاحب ١٢رمضان المبارك ١٣٣٧ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہمیں کہ زید بیوہ مسمّاۃ ہندہ سے بدیں شرط انکار کیا کہ وُہ اپنے ناجائز متعلق سے قطع تعلق کرلے،اس نے منظور کیااور نکاح ہوگیا،ہندہ مذکور نے گواس ناجائز متعلق سے قطع تعلق کرلیا لیکن زید نے اس سے گفتگو کرتے دیکھ لیا اور غصّہ میں زید نے ایك لکھے پڑھے شخص سے کہا کہ تم مضمون لکھ دو جس سے میں ہندہ سے دست بردار ہوجاؤں اور وہ تحریر بذریعہ رجسٹری مسمّاۃ کے پاس بھیج دوں۔یہ وہ الفاظ بعینہٖ تھے جوادا کئے گئے تھے،لکھے پڑھے شخص نے ایك تحریر لکھی جس میںہندہ کو تحریر کیا کہ تم نے شرط پوری نہیں کی لہذاتم میری نہیں رہیں تم کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں،اب مسمّاۃ ہندہ کہتی ہے کہ گو میں نے شخص متعلق سے تمہاری مرضی کے خلاف گفتگو کی ہے لیکن اب کوئی واسطہ نہیں ہے نہ اب گفتگو کروں۔چونکہ زید کو طلاق رجعی یابائن کا کچھ علم نہیں تھا لیکن زید کے ذہن میں قطعًا قطع تعلق نکاح نہ تھازید نے مضمونِ طلاق سُن لیا تھا اب مسمّاۃ پشیمانی کے ساتھ طالبِ معافی ہے اور زیدبھی چاہتا ہے کہ مسمّاۃ ہندہ مذکور میرے نکاح میں رہے۔واضح رائے عالی ہو کہ مسمّاۃ ہندہ کو شخص متعلق سے گفتگو کرتے دیکھ کر اس کے دوسرے تیسرے دن تحریر رجسٹری طلاق کی بھیجی تھی اور جس روز تحریری طلاق بھیجی اسی روز ہندہ اور زید میں گفتگو ہوکر خواہشمند بقائے نکاح
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع