30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اب مررسہ کررکہتا ہوں کہ میں نے طلاق دی طلاق دی طلاق دی،اور یہ لوگ مسافر مسلمان ہیں ان سے کہتا ہوں یہ لوگ شرعی گواہ ہوچکے ہیں،یہ اشارہ ہم مسافران کی طرف تھا۔
العبد
حافظ فخرالدین ولد حافظ قیام الدین ساکن آنولہ محلہ پٹھاناں بقلم خود ![]()
آج تاریخ دو جولائی ١٩١٧ء مطابق ١١رمضان المبارك ١٣٣٥ھ سیّد عبدالرزاق صاحب سکنہ بھموری میرے یہاں تشریف لائے اور تین صاحب اور اُن کے ہمراہ تھے،سید عبدالرزاق صاحب نے میر عابد اپنے داماد کا اُن کی لڑکی کو بذریعہ رجسٹرڈ تحریر موجودہ کے طلاق دینا اُن تینوں ہمراہیوں میں سے دو٢صاحبوں کو میر عابد علی مذکور کے طلاق مذکور کے اقرار زبانی کا گواہ بیان کیا۔گواہان مذکور الصدر نے میرے زبانی طلاق بدستخط اپنے اپنے بیان تحریر کئے رجسٹر تحریر موجود کا خود میر عابد علی کی تحریر ہونا اور نیز زبانی طلاق مکررسہ کردینا بخوبی ثابت ہے،بیانات مذکور ہمرشتہ تحریر ہذا ہے۔الراقم خادم الاطباوالعلماء ابو محمد عبدالرشید ظہور الاسلام سہسوانی ہیڈمولوی گورنمنٹ ہائی اسکول فرخ آباد۔مہر ودستخظ سے آج تاریخ ٢ جولائی ١٩١٧ء کوروانہ کیا گیا۔فہرست اوراق {تحریر راقم ایک،بیان مرزا صدیق بیگ ایک،بیان حافظ فخرالدین صاحب ایک}کُل تین اوراق۔
الجواب:
کوئی تحریر بے شہادت یا اقرار کاتب مسلّم نہین ہوسکتی اگرچہ خط اسی کا معلوم ہوتا ہو،علماء فرماتے ہیں:
|
الخط یشبہ الخط والخاتم یشبہ الخاتم کما فی الھندیۃ١ [1]وغیرہا۔ |
خط دوسرے خط اور مُہر دوسری مُہر کے مشابہ ہوتی ہے جیساکہ ہندیہ وغیرہا میں ہے(ت) |
یہاں عابد علی اس خط سے منکر ہے تو شہادت درکار،اُن دوگواہوں نے جوگواہی دی ناقص وناتمام ہے وہ اپنے بیانوں میں،عابد وعبدالرزاق کہتے ہیں ملك میں اس نام کے ہزاروں ہوں گے۔شرطِ شہادت یہ ہے کہ اگر وُہ حاضرہوں تو ان کی طرف اشارہ کرکے گواہی دے کہ اس عابد علی نے اس عبدالرزاق کی بیٹی زوجہ کی نسبت یہ کہا اور اگر حاضر نہ ہوں تو اُن کا نسب پاك دادا تك بیان کرے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع