30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صاحب موصوف کے ہمرشتہ سوال یہ ہے کہ اس صورتِ بالا میں زید کی بی بی کو طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟اگر ہوئی ہے تو عدّت خطوظ کے وقت سے شروع ہوگی یا گواہی دینے گواہان مذکور سے؟
نقل خط اوّل
قبلہ وکعبہ مدظلہ،تسلیم بصد تعظیم،عرصہ سے خیریت دریافت نہیں ہوئی تردد ہے،امید کہ مطلع فرمایا جاؤں،نیاز مندکسی قدر اپنے اظہار خیالات کی اجازت چاہتا ہے جو میری دانست میں ضروری ہیں لیکن بلااستخراج رائے جرأت نہیں کرسکتا،مجھے امید ہے کہ آپ میری اس قسم کی گزارش کو ضرور منظور فرمائیں گے جس کی شاہدات میری نظروں میں نہایت خوش آیند ودلفریب ہیں،زیادہ نیاز۔احقر ازلی سیّد عابد علی۔
خط دوم بعدکا
قبلہ نعمت و کعبہ کرامت مدظلہ العالی تسلیم بعد تکریم،نیاز مند قبل اس کے اظہار خیالات اپنے کی اجازت چاہی،قبلہ نے سکوت اختیار فرمایا،نیاز مند خاموش ہورہا،اب جرأت کرتا ہوں عرض کرنے کی،جس کو جناب منظور فرمائیں گے۔میری شادی جناب کی دختر کے ساتھ ہوئی محض والد صاحب کی خواہش تھی مجھ کو منظور نہ تھی،نہ مجھ کو آپ کی صاحبزادی سے کسی قسم کا تعلق رہا اور نہ آئندہ رکھنا چاہتاہوں،بموجب شرع کے آپ کی لڑکی کو آج کی تاریخ سے طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں،آپ جانیں والد صاحب جانیں۔
بیان مرزا صدیق بیگ گواہ جن کے سامنے عابد علی نے پانی زوجہ کو طلاق دینے اقرار کیا۔
عابد علی نے ہمارے سامنے عبدالرزاق سے سرائے بلہور میں یُوں کہا کہمیں نے تمہاری لڑکی کو ایك عرصلہ گزرا کہ بذریعہ تحریرکے طلاق دے چکاہوں تم اسی میری تحریر پر عملدرآمد کرو اور مکرر سہ کررکہتا ہوں کہ میں نے طلاق دی طلاق دی طلاق دی اور یہ لوگ مسافر مسلمان ہیں ان کے سامنے کہتا ہوں یہ لوگ شرعی گواہ ہوچکے ہیں،یہ اشارہ اُن کا ہم مسافروں کی طرف تھا۔بقلم مرزا صدیق بیگ ساکن خورجہ ضلع بلند شہر
![]()
بیان حافظ فخرالدین ولد حافظ قیام الدین صاحب ساکن قصبہ آنولہ محلہ پٹھاناں
عابد علی نے ہمارے سامنے عبدالرزاق صاحب سے سرائے بلہور میں یُوں کہا
کہ میں نے تمہاری لڑکی کو ایك عرصلہ گزرا بذریعہ اپنی تحریر کارڈ رجسٹری کے طلاق شرعی دے چکا ہوں تم اسی میری تحریر پر عملدر آمد کرو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع