30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فلاں پاس فلاں پہنچ کر مسمّاۃ فلاں بنت فلاں کوملے۔اب چونکہ شوہر کئی ماہ بعد صحت یاب ہوالوگ طرفین پر زور دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس طور طلاق نہیں ہوئی اگر تحریر پوسٹ کارڈ کسی دوسرے کے نام جاتی جواس کام کے واسطے مقررکیا جاتا اس کو لکھا جاتا کہ تم میری طرف سے بطور وکیل دے دو تب طلاق ہوجاتی،دوسرے یہ کہ وہ عورت حاملہ تھی کسی صورت میں بھی طلاق نہیں ہوئی،لہذا آنجناب فیض مآب کو ا طلاع دی جاتی ہے کہ اس بارہ میں جو حکم شرع شریف ہو بدلائل اس سے سائل کو جلد مطلع فرمائیے۔
الجواب:
شخص مذکور تین طلاقیں ایك ساتھ دینے سے گنہگار ہوا اور عورت پر تین طلاقیں پڑگئی وُہ نکاح سے نکل گئی،اب بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا،عورت کا حاملہ ہونا یا کسی کو طلاق دینے کا وکیل نہ کرنا کچھ منافی طلاق نہیں،یہ محض جاہلانہ خیال ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۹۱: ازبھموری ڈاك خانہ بھیکم پور ضلع علی گڑھ مرسلہ عبدالرزاق صاحب ٢٣جمادی الاولٰی ١٣٣٦ھ
زید نے بذریعہ خطوط اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں پہلا خط جو کہ اپنے خسر کو لکھا یہ ہے کہ میں اپنے اظہار خیالات کی اجازت چاہتا ہوں،مگر آپ کی رائے کامنتظر ہوں،امید کہ مجھ کو اظہار خیالات کی جازت دی جائے گی مگر خسرنے جواب نہیں دیا،اس پر دوسرے خط میں لکھا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ میں نے اپنے اظہارِ خیالات کی اجازت چاہی تھی مگر قبلہ نے سکوت اختیار فرمایا اب میں جرأت کرتا ہوں کہ میری شادی آپ کی لڑکی سے محض والد صاحب کی خواہش تھی مجھ کو منظور نہ تھی ورنہ مجھ کو آپ کی صاحبزادی سے کسی قسم کا تعلق رہا اور نہ آئندہ رکھنا چاہتا ہوں آج کی تاریخ سے آپ کی لڑکی کو طلاق طلاق طلاق دیتا ہوں آپ جانیں والد صاحب جانیں۔اب اُس خط سے جس میں طلاق ہے اول میں انکار تھا اظہار جرأت والے خط میں اقرار تھا اس کے تین سال بعد زید کا خسر زید کے پاس گیا اور کہا میری لڑکی کے ساتھ تمہارا کیا ارادہ ہے،اس نے کہا میرا کچھ تعلق نہیں ہے۔اس نے کہا کہ میرے ساتھ سرائے تك چلو تاکہ تمہارے بیان کا سرائے میں کوئی گواہ بھی ہوجائے،چنانچہ وُہ سرائے میں آیا اور دو٢ آدمیوں کے سامنے جن کا نام مرزا محمد صدیق بیگ ساکن خورجہ ضلع بلند شہر اور دوسرے کانام حافظ فخرالدین ساکن آنوامحلہ پٹھان،چنانچہ دونوں گواہوں کے بیانات ایك عالم محمد عبدالرشید سہسوانی ہیڈ مولوی گورنمنٹ ہائی اسکول فرخ آباد کے سامنے بیان ہوئے۔انہوں نے یہ بھی بیان کیا کہ میں نے یعنی زید نے کہ پہلے خطوط میں بھی اپنی بی بی کو طلاق دے چکا ہوں،اوراب بھی طلاق مکررسہ کردیتا ہوں،چنانچہ وہ دونوں خطوں کی نقل اور تینوں کاغذات کی نقل دوکاغذ بیانات گواہ اور ایك کاغذ مولوی عبدالرشید
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع