30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پیش کیا گیا مولٰنا موصوف نے فرمایا:حضور میں مولٰنا احمد رضاخاں صاحب کے بھیجا جائے لہذا مستدعی کہ جواب سے سرفراز فرمایا جائے۔
الجواب:
یہ مہملات ہیں اور شریعت پر جرأت اور ایك مسلمان کو خواہی نخواہی کفر میں دھکیلنا اور بہ چاہنا کہ جس طرح بنے اسے کافر کرلیں،ائمہ دین تو یہ تصریح فرماتے ہیں کہ جاہلوں سے اگر کوئی مسئلہ ذات و صفات عقائدِ اسلامیہ کے متعلق پوچھو تو جواب پہلے بتادو نہ کہ اس سے دقیق مسائلِ ذات وصفات پوچھے جائیں کہ کسی طرح اسے کافر بنالیاجائے،ہمارے امام اعظم رضی اﷲتعالٰی عنہ وغیرہ ائمہ دین فرماتے ہیں جو کسی مسلمان کی نسبت یہ چاہے کہ اس سے کفر صادر ہو وہ کفر کرے یا نہ کرے یہ ابھی کافر ہوگیا کہ مسلمان کا کافرہونا چاہا اور یہاں سے ظاہر ہواکہ جس مصیبت کے واسطے یہ بلائے عظیم اوڑھنی چاہی وہ دو٢وجہ سے بدستور رہی ایك تو یہ محض کذب اور جُھوٹ اورشریعت پر افتراء ہے کہ تین طلاق کی مطلقہ اگر کفر کرے تو حلالہ کی حاجت نہیں اگر کفر کرے گی تو دوہری حُرمت ہوگئی ایك تو تین طلاق کی تھی وُہ خاص اسی کے لئے تھی اور دوسری مرتد ہونے کی ہوئی کہ اب وُہ جہان بھر میں کسی مسلمان کسی کافر کسی مرتد کسی آدمی کسی جانور کے نکاح کے قابلنہ رہی،مرتدہ کا نکاح جہان بھر میں کسی سے نہیں ہوسکتا،نہ مرتد کا جس سے ہوگا زنائے محض ہوگا کما فی العٰلمگیریۃ وغیرہا(جیسا کہ عالمگیریہ وغیرہا میں ہے۔ ت)اور اگر اسے کافرہ کرکے پھر مسلمان کیا جائے اور یہ سمجھاجائے کہ اب حلالہ کی حاجت نہ رہی تو یہ بھی محض ہوس رجیم ہے حلالہ ضرورکرنا ہوگا اور بغیر حلالہ قطعًاحرام،ایك تویہ بھاری مصیبت ہوئی دوسرے سے اس کا نکاح حلال نہ رہا،اگر اب مسلمان ہوا اور یہ سمجھے کہ اب مجھے حلالہ کی حاجت نہ ہوگی تویہ وہی ہوس ملعون حلالہ اُن کی دُم سے بندھا ہوا ہے ہرگز پیچھا نہ چھوڑے گا،تو کھایا اور کال بھی نہ کٹا،اور کھایا بھی کیساکہ آپ بھی مرتدعورت بھی مرتد،انّاالیہ راجعون(بیشك ہم اﷲتعالٰی کے لئے ہیں اور اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ت)سیّد علی ترمذی کی کوئی کتاب ارشاد الطالبین ہمیں نہیں معلوم،اور ہو بھی تو حکم،علی ترمذی کا نہیں محمد مدنی کا ہے صلّی اﷲتعالٰی علیہ وسلم(اس کی تفاصیل میں کلام کثیر ہے مگر اس کے بعد زیادہ تطویل کی حاجت نہیں۔درخانہ اگر کس است یك حرف بس است(اگر خانہ عقل میں کچھ سُوجھ ہوتو اشارۃً ایك حرف بھی کافی ہے۔ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع