30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زید کو دبایا تو کہا میں نے طلاق رجعی دی تھی وُہ بھی ایامِ حیض میں،جوگواہ وقتِ طلاق موجود تھے وہ حلفی بیان کرتے ہیں کہ ہمارے سامنے تین طلاقیں دیں اور زید بھی حلفی بیان کرتا ہے کہ ہاں طلاق دی مگر یہ نہیں کہتا کہ تین دیں یا ایک،مجھے یاد نہیں،قولِ زید ہے کہ عورت سے جو تکرار رہتی تھی اس لئے دھمکانے کو کاغذ تحریر کردیا تھا اب عورت ومرد نے کاغذدونوں چاك کر ڈالے،زید کہتا ہے کہ حشر کا بوجھ میں پنے ذمّہ لیتا ہوں گواہ غلط بیان کرتے ہیں برادری نے اس زید کو خارج کردیا ہے اور صہ عہ ٢٥ جرمانہ کردئے تو اب برادری میں اُسے ملالیں یا عورت کو الك کراکرملادیں اور جرمانہ برادری کا شرعًاجائز ہے یا نہیں؟
الجواب:
طلاق جب دی جائے واقع ہوجائے گی خواہ دھمکی مقصود ہو یا کچھ اور،صریح لفظ محتاجِ نیت نہیں ہوتے اُن سے نیّت کرے یا نہ کرے طلاق ہوجاتی ہے،اگر وُہ تین طلاقیں دینے یا لکھنے کامقر ہے اور عذر یہ بیان کرتا کہ دھمکی مقصود تھی طلاق کی نیت نہ تھی تو بلاشك تین طلاقیں ہوگئیں اور بغیر حلالہ اُسے رکھنا زنائے محض ہے،جب تك اُس عورت کو نکال نہ دے اور علانیہ تو بہ نہ کرے برادری میں ہرگز نہ ملایا جائے،یُونہی اگر وُہ مقر نہ ہو مگر دو٢ گواہ ثقہ متقی عادل شرعی اپنے سامنے تین طلاقیں دینے کی شہادت دیتے ہوں جب بھی تین طلاقیں ہوگئیں،اور حکم یہی ہے جو اُوپر گزرا،اگر نہ وُہ تین طلاقوں کا اقرار کرتا ہو نہ گواہوں میں دو٢شخص ثقہ قبول شرع ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(مسودہ ناقص ملا)[تاہم خلاصلہ کلام متروکہ یہ ہے کہ ایسی صورت میں زید کے اقرار پر فیصلہ ہوگا۔مترجم]
مسئلہ١٧٠: از لمکن ضلع بریلی مرسلہ قاضی اشفاق حسین صاحب ٢٢صفر ١٣١٦ھ
مع فتوائے شخصے غیر مقلد کہ تین طلاقیں ایك جلسہ میں ایك ہی طلاق حضرت ارشاد فرمائیں کہ یہ فتوٰی صحیح ہے یانہیں اور اس پر عمل جائز ہے یانہیں؟ ہمیں فقط حضرت پر اطمینان ہے جو حکم ہو اس پر عمل کریں۔والسلام
الجواب:
مکرمی کرم فرمائے قاضی محمد اشفاق صاحب اکرمکم اﷲتعالٰی! السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ،۔یہ فتوٰی جس کی نسبت فقیر کا مسلك آپ دریافت فرماتے ہیں نظر سے گزرا یہ محض غلط حکم ہے اس پرعمل حرام ہے،یہ نہ صرف ہمارے ائمہ بلکہ چاروں مذہب کے خلاف ہے،اس کی تفصیل علمائے کرام اپنی تصانیف میں اعلٰی درجہ پر فرما چکے انہیں باتوں کو جن کے جواب ہزار ہزار بار دے دئے گئے پھر پیش کردینا حضرات وہابیہ کاقدیمی داب ہے،لطف یہ ہے کہ امیر المومنین عمر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کی نسبت صریح لکھا کہ انہوں نے فتوٰی دیا اور پھر یہ کہ حکمِ خداو رسول کے خلاف
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع