دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Fatawa Razawiyya jild 12 | فتاوی رضویہ جلد ۱۲

book_icon
فتاوی رضویہ جلد ۱۲

صورتِ بالا میں مطابق قرآن وحدیث کے جواب مرحمت فرمایا جائے۔

الجواب:

اگر اس نے اتنے ہی لفظ کہے کہ طلاق طلاق طلاق،نہ یہ کہا کہ دی،نہ یہ کہاکہ تجھ کو یا اس عورت کو،نہ یہ الفاظ کسی ایسی بات کے جواب میں تھے جس سے عورت کو طلاق دینا مفہوم ہو،تو طلاق اصلًا نہ ہوئی،وہ بدستور اس کی عورت ہے دوبارہ نکاح کی حاجت نہیں،اور اگر اس کے ساتھ یا اس بات میں جس کے جواب میں یہ الفاظ تھے وُہ لفظ موجود تھے جن سے یہ مفہوم ہو کہ اس نے اپنی عورت کو طلاق دی یا وہ اقرار کرےکہ میں نے یہ الفاظ عورت کو طلاق دینے کی نیّت سے کہے تھے تو تین طلاقیں ہوگئیں بے حلالہ اُس کے نکاح میں نہیں آسکتی،واﷲتعالٰی اعلم۔

مسئلہ ١٦٨:                              از ڈھاکہ مرسلہ عبدالکریم میاں                  ١٣شوال ١٣٣٧ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص اپنی برادری میں کوئی بات لے کر آپس میں متنازع ہورہے تھے اس گفتگو میں وہ شخص کہنے لگا بھائی! میں ایك پریشانی اٹھاتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں اپنی زوجہ کی سبب سے ہمیشہ پریشان ہوں کیونکہ وہ عورت میری باتوں میں دخل دیا کرتی ہے لہذا میں شرمندہ ہوں اُس وقت اُن کی ز وجہ گھر میں تھی میاں نے جو اپنی زوجہ کی شکایت کیا زوجہ نے ازاول تا آخر سب سُنا زوجہ نے جواب دیا اگر میرے سبب تمہارے تکلیف اور ناگوار ہوتو مجھے نکال دو گے اور کیا کرو گے،زوج زوجہ کا کلام سُنتے ہی خفا ہوگیا اور کہا جا ایك طلاق دوطلاق تین طلاق دادم،آیا اس صورت مذکورہ میں وہ عورت تین طلاق سے مغلظہ ہوئی یا نہیں مگر طالق نہ مخاطب زوجہ کو ہوا نہ اُن کا نام لیا اور سوال میں جو لفظ"جا"مقولہ طالق ہے یہ معنی امر کی مقصود نہیں ہے بلکہ وُہ اپنے کلام میں اکثر یہ لفظ بولاکرتے ہیں معنی امر کے نہیں ہوتے ہیں باوجود ان وجوہات کے کیا حکم؟

الجواب:

اگر"جا"سرے سے کلمہ خطاب نہ ہوتا یا حسب قول سائل یہ اُس کاتکیہ کلام ہے اس سے خطاب کا ارادہ نہیں کرتا اور کلام مُطلّق کہ جواب زوجہ میں ہے اُس کے جواب میں بھی نہ ہوتا ابتداءً ہو اتنا ہی کہتا کہ"تین طالق دادم"جب بھی بلاشبہہ حکم مغلظہ دیا جاتا کہ طلاق دینے سے ظاہر زوجہ ہی کا ارادہ ہے ہاں ازانجا کہ کلام زوجہ میں سوال طلاق نہ تھا نہ کلام زوج الفاظ ایك طلاق دو طلاق الخ عورت کی طرف اضافت ہے اور"جا"احتمال مذکور سائل کے علاوہ خود کنایات سے ہے صریح الفاظ سے نہیں کہ تقدم طلاق ہوکر خود مذاکرہ ثابت ہوجائے ان وجوہ سے عدم نیت کا احتمال باقی ہے اگر زوج بحلف شرعی کہہ دے کہ اُس نے


 

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن