30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال اﷲتعالٰی فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍۙ وَّ الِّٰٓیۡٔۡ لَمْ یَحِضْنَ [1]۔ |
اﷲتعالٰی نے فرمایا؛ نابالغہ اور جن کو حیض بند ہوگیا ہے ان کی عدت تین ماہ ہے۔(ت) |
اس کے بعد اس کا نکاح ہوسکتا ہے،
|
فی الدرالمختار العدۃ فی حق من لم تحض لصغر بان لم تبلغ تسعًا اوکبربان بلغت سن الایاس ثلثۃ اشھران وطئت فی الکل ولو احکما کالخلوۃ ولو فاسدہ مطلقا[2]۔ |
درمختارمیں ہے:جن عورتوں کو نابالغی یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہیں آتا،نابالغی سے مراد جو نوسال کو نہ پہنچی اور بڑھاپے سے مراد جن کا رِحم ناقابل ہوگیا،تو ان سب مدخولہ عورتوں کے لئے ہے اگر چہ حکمًا مدخولہ ہوں جیسا کہ خلوت مطلقًا خواہ فاسدہ ہو۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
المطلقۃ قبل الدخول لایلحقھا طلاق اخراذالم تکن معتدۃ بخلاف ھٰذہ[3]۔ |
قبل از دخول مطلقہ کو دوسری طلاق ملحق نہ ہوگی بشرطیکہ عدت والی نہ ہو بخلاف عدت والی کے۔(ت) |
اور اگر ابھی خلوت نوبت نہ آئی تو ایك طلاق ہوئی اور عورت پر عدّت نہیں اسی وقت جس سے چاہے نکاح ممکن ہے۔ واﷲ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٦٧: از پنڈی ضلع منڈلہ مرسلہ ولی محمد صاحب ٨جمادی الاولٰی ١٣٣٦ھ
محمد بخش نے اپنی عورت کو اس ترکیب سے ایك خطبہ میںطلاق دیا کہ طلاق طلاق طلاق،اور مہر بھی جو کچھ تھا ادا کردیا،اور طلاق دئے ہوئے عرصہ ایك سال کا ہوا،اور اب پھر دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں مطابق دوسرے پارہ کے،جیساکہ چودھویں رکوع میں اﷲتعالٰی ارشاد فرماتا ہے،مگر ہم لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع