30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
(١)جب طلاقیں تین تك پہنچ جائیں پھر وُہ عورت اس کے لئے بے حلالہ کسی طرح حلال نہیں ہوسکتی،
|
قال اﷲتعالٰی فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ[1]۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ |
اﷲتعالٰی نے فرمایا ہے:اگر تیسری طلاق دی تو مطلقہ اس کےلئے حلال نہ ہوگی تاوقتیکہ وُہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرلے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
(٢)جس نے دس١٠ طلاقیں دیں،تین سے طلاق مغلظ ہوگئی اور باقی سات٧ شریعت سے اس کا استہزا تھیں،بلانکاح تو مطلقہ بائن بھی حلال نہیں ہوسکتی ہے اور یہ تو نکاح سے حرام محض رہے گی جب تك حلالہ نہ ہو طلاق دے یا مرجائے اور بہر حال اس کی عدت گزرجائے اس کے بعد اس پہلے سے نکاح ہوسکتا ہے ورنہ ہرگز ورنہ ہرگز نہیں۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(٣)وُہ صحبت زنا ہوگی اور اسے اگر مسئلہ معلوم ہے تو یہ زانی اور شرعًا سزائے زنا کا مستحق اور اولاد ولدالزناء اور ترکہ پدری سے محروم،اور ایسا شخص قابل ِ خلافت وسجادہ نشینی نہیں،
|
وقد قال فی ردالمحتار وغیرہ من الاسفار انہ زنا اذاعلم بالحرمۃ[2]۔ |
ردالمحتاروغیرہ کتب میں فرمایا:جب حرام ہونا معلوم ہے تو یہ زنا ہے۔(ت) |
اور اس میں برابر ہے کہ تین طلاقیں ایك ساتھ ہوں یا متفرق۔درمختار میں ہے:
|
لاحدبشبہۃ الفعل ان ظن حلہ کوطء معتدۃ الثلاث ولوجملۃ٣[3]۔(ملخصًا) |
جب حلال ہونے کا گمان کیا تو یہ شبہہ فعل ہوگا جس پر حد نہیں،جیسا کہ اپنی مطلقہ ثلاثہ کی عدت میں جماع کیا اگرچہ اکھٹی تین طلاقیں ہوں(ملخصًا)(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
ای ولوکان تطلیقۃ الثلاث بلفظ واحد فلایسقط عنہ الحدالاان ادعی ظن الحل |
یعنی ایك لفظ سے تینوں طلاقیں دے دی ہوں تو عدت میں وطی کرنے پر حد ساقط نہ ہوگی مگر ا س نے اس صورت میں حلال ہونا گمان ہوتو پھر |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع