30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
تین طلاقیں ہوگئیں،بے حلالہ نکاح نہیں ہوسکتا مگر جبکہ گواہانِ عادل شرعی سے ثابت ہوکہ واقعی وہ اس وقت حالتِ جنون میں تھا یایہ معلوم ومشہور ہوکہ اسے جب غصّہ آتا ہے عقل سے باہر ہوجاتا ہے اور حرکاتِ مجنونانہ اس سے صادر ہوتی ہے اس حالت میں اگر وہ قسم کھاکر کہہ دے گا کہ اس وقت میرا یہی حال تھا اور میں عقل سے بالکل خالی تھا تو قبل کرلیں گے اور بحکمِ طلاق نہ دیں گے،اگر جُھوٹا حلف کریگا وبال اس پر ہے والمسئلۃ فی الخیریۃ وردالمحتار وغیرھا(یہ مسئلہ خیریہ اور رد المحتار وغیرہما میں ہے۔ت)واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٥٦: ٢٨ربیع الثانی شریف ١٣١٤ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك شخص نے کسی کے جبر وظلم سے محض ناچار ومجبور ہوکر اپنی عورت کو طلاق دے دی اور طلاق نامہ لکھ دیا اس صورت میں طلاق پڑے گی یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب:
طلاق بخوشی دی جاےخواہ بجبر' واقع ہوجائے گی۔نکاح شیشہ ہے اور طلاق سنگ،شیشہ پر پتّھر خوشی سے پھینکے یا جبر سے یا خود ہاتھ سے چھٹ پڑے شیشہ ہرطرح ٹوٹ جائے گا۔مگر یہ زبان سے الفاظِ طلاق کہنے میں ہے،اگر کسی کے جبر واکراہ سے عورت کو خطرہ میں طلاق لکھی یا طلاق نامہ لکھ دیا اور زبان سے الفاظِ طلاق نہ کہے تو طلاق نہ پڑے گی۔تنویرالابصار میں ہے:
|
ویقع طلاق کل زوج بالغ عاقل ولومکرھا او مخطئا ١[1]وفی ردالمحتار عن البحران المراد الاکراہ علی تلفظ بالطلاق فلواکرہ علی ان کتب طلاق امرأتہ فتکتب لاتطلق لان الکتابہ اقیمت مقام العبارۃ باعتبار الحاجۃ ولاحاجۃھنا[2]۔ |
ہر عاقل بالغ خاوند کی طلاق نافذ ہوجائیگی اگر چہ مجبور کیا گیا یا خطاء سے طلاق کا کہہ دیا ہو،اور ردالمحتار میں بحر سے منقول ہے کہ جبر سے مراد لفظ طلاق کہنے پر جبر کیا گیا ہو،اور اگر اس کو اپنی بیوی کو طلاق لکھنے پر مجبور کیا گیا تو اس نے مجبور ہوکر لکھ دی تو طلاق نہ ہوگی،کیونکہ کتابت کو تلفّظ کے قائم مقام محض حاجت کی بناء پر کیا گیا ہے اور یہاں خاوند کو حاجت نہیں ہے۔ (ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع