30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بالبینونۃ(بائنہ طلاق کی وجہ سے اب طلاق کا محل نہ رہی۔ت)عورت اسی پہلی طلاق پر نکاح سے نکل گئی اب بلا حلالہ اس سے نکاحِ جدید کرسکتا ہے اور اگر اس پانچ چھ مہینے میں عورت کو تین حیض آکر ختم نہ ہوئے تو اب تین طلاقیں ہوگئیں،بے حلالہ نکاح نہیں کرسکتا،واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٥٠: طلاق کتنے مرتبہ دینے سے عورت نکاح سے باہر ہوسکتی ہے؟
الجواب:
تین مرتبہ ہوجائے تو عورت ایسی نکاح سے باہر ہوتی ہے کہ بے حلالہ پھر اس سے نکاح نہیں کرسکتا اور تین مرتبہ سے کم کے لئے کچھ الفاظ مقرر ہیں کہ ان سے نکاح جاتا ہے مگر بے حلالہ نکاح پھر کرسکتا ہے،اور ابھی عورت سے خلوت کی نوبت نہ پہنچی ہوتو کسی لفظ سے ایك ہی طلاق دینے سے عورت نکاح سے باہر ہوجاتی ہے دوبارہ نکاح کرسکتا ہے،واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٥١تا١٥٢:از اندور چھاؤنی ریزیڈنسی گورنمنٹ پریس سنٹرل انڈیا مسئولہ عبد الکریم پسر سکندر خاں پہلواں ١٦ جماد ی الآخرہ ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس بارہ میں کہ ایك شخص نے اپنی زوجہ کو واقعی طلاق نہیں دی تھی کسی مقدمہ میں برسراجلاس فریق ثانی کے سوال کے تردید میں جس نے کہ اس کی زوجہ کا بوجہ نوع بنوع تکالیف کے اس کے یہاں سے فرار ہونا ظاہر کیا تھا یہ جواب دیا کہ اس کی زوجہ فرار نہیں ہوئی بلکہ میں نے اس کو طلاق دے دی تھی لیکن بعد میں تحقیقات سے معلوم ہوا کہ شخص مذکور الصدر نے محض اپنی آبروریزی کے خیال سے نیز اپنی بات کوبالارکھنے کی وجہ سے طلاق کا اظہار کچہری کے رُوبرور کیا تھا،آیا ایسی صورت میں جیساکہ اس نے کچہری کے رُبرو ظاہر کیا طلاق ہونا جائز ہے کیا؟
(٢)شخص مذکور الصدر ہی نے ایك دعوٰی بازیابی زوجہ اپنی زوجہ کے خلاف کچہری مجاز میں دائر کیا،کچہری نے بعد انفصال مقدمہ ایك نوٹس میعادی آٹھ یوم بایں مضمون بنام مدعی جاری کیا کہ میعاد مقررہ کے اندر مدعی اپنی زوجہ کو اپنے مکان پر لے جائے ورنہ بعد انقضائے میعاد مذکور سمجھاجائے گا کہ مدعی مذکور کی جانب سے طلاق ثلاثہ ہوگئی،چنانچہ نوٹس مجریہ بعد بعد اطلاع یابی مدعی بلاکسی اطلاع کے کہ مدعی اپنی زوجہ کو اتنے روز میں لے جائے گا موصول کچہری مجاز ہوگا،بعد اختتام میعادِ مذکور وکیل مدعا علیہا نے ازروئے قانون مروجہ ہدایت کی کہ مدعا علیہا اب اپنا عقد ثانی کرسکتی ہے،اس صورت میں اگر خلاف مدعا علیہا کسی قسم کا دعوٰی مدعی کی طرف سے ہوگا تو اس کا ذمّہ دارمیں ہوں،لہذا عرض ہے کہ اس صورت میں بھی کہ جو یہاں کی گئی تحریر فرمائیں ازروئے شرع شریف طلاق ہوگئی یا نہیں؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع