30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بے لفظ کافی نہیں،ہاں اگر وہ یوں کہتے کہ تُونے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی،تو یہ اخبار یا بتقدیر لفظ کیا استخبار ہوتااس کے جواب میں اگر وہ ہاں کہتا ضروروقوع کا حکم دیا جاتاکہ اب وہ تصدیق واقرار ہے اس صورت کی تصریح کی ضرورت یہ بھی تھی کہ بعض اطرافِ ہند کے بلاد میں فاعل فعل متعدی کے ساتھ بھی لفظ(نے)نہیں کہتے مثلًا تو کہا یا آپ فرمائے،بولتے ہیں اگر ان لوگوں کا یہی محاورہ معلومہ معروفہ ہیے اور"دے دی"بیائے معروفہ کہا تھا اور زید نے یہی معنٰی سمجھ کر"ہاں"کہا تو حکمًا طلاق واقع مانی جائے گی،اگر چہ عنداﷲ طلاق نہ ہوئی جبکہ واقع میں نہ دی تھی اور جھوٹ اقرار کردیا۔تاج العروس میں ہے:
|
فی التھذیب قد یکون نعم تصدیقا ویکون عدۃ و حاصل مافی المغنی وشروحہ انہ یکون حرف تصدیق بعد الخبر ووعدہ بعدافعل ولاتفعل[1]الخ۔ |
تہذیب میں ہے کہ نعم(ہاں)کا لفظ تصدیق ہوتا اور وعدہ ہوتا ہے،اور مغنی اور اس کی شروح میں مذکور کا ماحصل یہ ہے کہ نعم خبرکے بعد تصدیق اور کر(امر)اور نہ کر(نہی)بعد وعدہ ہوتا ہے الخ(ت) |
فتاوٰی عالمگیریہ میں ہے:
|
سئل نجم الدّین عن رجل قال لامرأتہ اذھبی الٰی بیت امّلك فقالت طلاق دہ تا بردم فقال تو برومن طلاق دادم فرستم قال لاتطلق لانہ وعدکذافی الخلاصۃ[2]۔ |
نجم الدین رحمہ اﷲتعالٰی سے سوال کیا گیا کہ ایك شخص نے اپنی بیوی کو کہا"تو اپنی والدہ کے ہاں جا"بیوی نے جواب میں کہا"طلاق دے تاکہ میں جاؤں"خاوند نے کہا"تو جامیں نے طلاق دی ہے بھیج دی ہے"تو نجم الدین رحمہ اﷲتعالٰی نے فرمایا طلاق نہ ہوگی کیونکہ یہ وعدہ ہوگا۔خلاصہ میں ایسے ہی ہے۔(ت) |
ردالمحتار میں ہے:
|
فی البحر عن البزازیۃ والقنیۃ لوارادالخبر عن الماضی کذبالایقع دیانۃ وان اشھد قبل ذلك لایقع قضاء ایض٣[3]اھ واﷲسبحانہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔ |
بحر میں بزازیہ اور قنیہ سے منقول ہے کہ مذکور ہ صورت میں اگر خاوند نے ماضی کے بارے میں جُھوٹی خبر دیتے ہوئے کہا ہوتو طلاق نہ ہوگی،اور اگر پہلے سے گواہ بنالئے ہوں تو قضاءً بھی طلاق نہ ہوگی اھ واﷲسبحانہ،وتعالٰی اعلم(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع