30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یعنی امام شافعی وامام مالك وامام ابوحنیفہ وامام محمد وجمہور علمائے سلف وخلف کا یہی مذہب ہے کہ صورت مذکورہ میں تین طلاقیں ہوگئیں معہذااسے ضرورت ماننا صراحتًا مذہب کا ڈھانا ہے،کون نہیں کہہ سکتا کہ عورت کا علیحدہ ہونا مجھ پر دشوار ہے،کون نہیں کہہ سکتا کہ احتمال مفاسد ہے،احتمال کو ضرورت جاننا عجب جہالت ہے نہ کہ فقط نفس پر شاق ہونے کو تمام تکلیفاتِ شرعیہ کا ہدم کرے گا وہ سب نفس پر شاق ہونا ضرورت ٹھہرا والضرورات تبیح المحظورولاحول ولا قوۃ الّا باﷲ (ضروریات،ممنوعات کو مباح کرتی ہیں ولاحو ولاقوّۃ الاباﷲ۔ت)مسئلہ مفقود وامتداد طہر پر اس کا قیاس کرنا صریح وسواس ہے پھر رفع سراسر بطالت وجہالت کرخمیر ہے کسی طرح یقین نہیں کہ مولوی لکھنوی صاحب کی ہواگر چہ غلطی کاتب سے ان کانام لکھا گیا ہواور اگر واقعی اُن کی ہے تو اتباع حق کا ہے،نہ غیر۔واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ١٤٦: ازرامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی ٢٧شعبان ١٣٣٩ھ
شمس العلماء رئیس الفضلائے خانخاں جناب احمد رضاخاں صاحب دام لطفہ،السّلامُ علیکم!اگر غضب کثرت سے ہو کہ ایسا غصہ ہوکہ کامل عقل نہ ہو اس حا لت میں اگر طلاق صریح وغیرہ دیوے تو واقع ہوگی یانہ؟
الجواب:
غضب اگر واقعی اس درجہ شدّت ہو کہ حدّجنون تك پہنچا دے تو طلاق نہ ہوگی اور یہ کہ غضب اس شدت پر تھا،یا تو گواہان عادل سے ثابت ہویا وہ اس کا دعوٰی کرے اور اس کی یہ عادت معہود معروف ہو تو قسم کے ساتھ اس کا قول مان لیں گے ورنہ مجرد دعوٰی معتبر نہیں،یوں تو ہر شخص اس کا ادعا کرے اور غصّہ کی طلاق واقع ہی نہ ہو حالانکہ غالبًا طلاق نہیں ہوتی مگر بحالتِ غضب،
ردالمحتار میں خیریہ سے ہے:
|
الدھش من اقسام فلایقع واذاکان یعتادہ بان عرج ھذا الدھش مرّۃ یصدق بلابرھان اھ [1]وتمام تحقیقہ فی فتاوٰنا۔ |
مدہوشی،جنون کی قسم ہے۔لہذا طلاق نہ ہوگی۔جب عادت بن چکی ہو اور ایك مرتبہ مدہوشی معلوم ہوچکی ہوتو خاوند کی بات بلادلیل مان لی جائے گی اھ اس کی تحقیق ہمارے فتاوٰی سے معلوم کی جائے۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع