30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
لوگ اس پر عمل کرسکتے ہیں یا نہیں؟ بینواتوجروا
نقل فتوٰی مولاناعبد الحَی صاحب لکھنوی قدس سرہ الولی
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی عورت کو حالتِ غضب میں کہا کہ میں نے طلاق دیا میں نے طلاق دیا میں نے طلاق دیا،پس اس تین بارکہنے سے تین طالق واقع ہونگی یا نہیں؟ اور اگر حنفی مذہب میں واقع ہوں اور شافعی میں مثلًا واقع نہ ہوں تو حنفی کوشافعی مذہب پر اس صورت خاص میں عمل کرنے کے رخصت دی جائے گی یا نہیں؟
ھوالمصوّب الجواب:اس صورت میں حنفیہ کے نزدیك تین طلاق واقع ہوں گی اور بغیر تحلیل کے نکاح نہ درست ہوگا مگر بوقتِ ضرورت کہ اس عورت کا علیحدہ ہونا اس سے دشوار ہو اور احتمال مفاسد زائدہ کا ہو تقلید کسی اور امام کی اگر کرے گا تو کچھ مضائقہ نہ ہوگا،نظیر اس کی مسئلہ نکاح زوجہ مفقود وعدّت ممتدۃ الطہر موجود ہے کہ حنفیہ عند الضرورت قول امام مالك پر عمل کرنے کو درست رکھتے ہیں،چنانچہ ردالمحتار میں مفصّلًا مذکور ہے لیکن اولٰی یہ ہے کہ وُہ شخص کسی عالم شافعی سے استفتاء کرکے اس پر عمل کرے،واﷲاعلم حررہ عبدالحی عفی عنہ[1]۔
الجواب:
یہ فتوٰی گمراہ گری ہے،اس پر عمل حرام قطعی ہے،ان کے مجموعہ فتاوٰی میں این وآں وزید وعمر کے فتوی بھی بھرےہیں یہاں تك کہ غیر مقلدوں کے بھی،یہ فتوی بھی کسی غیر مقلّدکا ہوگا اور وُہ بھی نرے جاہل اجہل کا،جسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایك جلسہ میں تین طلاقیں ہوجانے پر جمہور صحابہ وتابعین وائمہاربعہ رضی اﷲتعالٰی عنہم کااجماع ہے،ہرگز امام شافعی یا کوئی امام اس کے خلاف کے قائل نہیں،اور اگر وُہ یہ جانتا ہے پھر امام شافعی و مخالف مانتا ہے تو سخت کذّات مکّار ہ اور عوام کو دھوکے دینے والا۔امام اجل ابوزکریا نووی شافعی شرح صحیح مسلم شریف میں فرماتے ہیں:
|
قال الشافعی ومالك ابوحنیفۃ واحمد وجماھیر العلماء من السلف والخلف یقع الثلث٢[2]۔ |
امام شافعی،امام مالک،امام ابوحنیفہ،امام احمد اور پہلے اور پچھلے جمہور علماء علماء نے فرمایا تین طلاقیں واقع ہوں گی۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع