30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
چاہے نکاح کرے،اور اگر طلاق رجعی تھی اور قبل ولادت قول یا فعل کے ذریعہ سے شوہر نے رجعت کرلی تو عورت بدستور اس کے نکاح میں ہے دوسری جگہ نکاح نہیں کرسکتی،وھوتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٤٤: از موضع بلہری ڈاکخانہ صفدر گنج ضلعبارہ بنکی مرسلہ مہدی حسن صاحب ٤رجب ١٣١٩ھ
کیا فرمائتے ہیں علماے دین اس مسئلہ میں کہ اگر کوئی شخص درمیان فساد باہمی کے بحالتِ غیظ وغضب اپنی بی بی سے تین باریُوں کہے کہ میں نے تجھے طلاق دیامیں نے تجھے طلاق دیا،اور بروقت دینے کے یہ بھی اپنے دل میں ارادہ کر لیا کہ میں ٹھیك ٹھیك اور صحیح عقل سے کہتا ہوں باوجود درمیان جھگڑے باہمی کے غصّہ میں یہ سب باتیں وقوع میں آئی ہوں تو اس حالت میں طلاق ہوئی یا نہیں؟ اور اگر طلاق ہوگئی تو پھر چند ساعت کے بعد غصّہ فروہوگیا اور میاں اپنے ان افعال قبیحہ پر منفعل ہو کر بی بی کو رجعت کرنا چاہے اور بی بی بھی رجعت پر آمادہ ہو تو کس صورت سے بی بی،میاں پر حلال ہے فقط۔بینواتوجروا
الجواب:
صورت مذکورہ میں تین طلاقیں ہوگئیں،عورت بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی یعنی اس کی عدت گزرے پھر عورت دوسرے شخص سے نکاح کرے اور اس سے ہمبستری بھی ہو،پھر وہ اسے طلاق دے یا مرجائے اور عدت گزرجائے اس کے بعد اس شخص کو عورت سے نکاح جائز ہوگا۔
|
قال اﷲتعالٰی فَاِنۡ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہٗ مِنۡۢ بَعْدُ حَتّٰی تَنۡکِحَ زَوْجًا غَیۡرَہٗؕ[1]،وقال رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم لاتحلّین الزوجك الاول حتی یذوق الاٰخر عسیلتك وتذوقی عسیلتہ٢ [2]۔ واﷲتعالٰی اعلم۔ |
اﷲتعالٰی نے فرمایا:اگر تیسری طلاق دی تو اس کے لئے مطلّقہ دوبارہ حلال نہیں ہوگی تاوقتیکہ کسی دوسرے شخص سے نکاح نہ کرے۔اور رسول اﷲصلی اﷲتعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا اے عورت تو حلال نہ ہوگی پہلے شوہر کے لئے جب تك تو دوسرے خاوند کا مزہ اوروہ تیرا مز ہ نہ لے لے۔ واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ١٤٥: ازشاہجہان پور محلہ باڑوزئی مسئولہ حفیظ اﷲصاحب ١٢ ربیعالاول شریف ١٣٣٩ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ درباب طلاق فتوٰی مولانا عبدالحی صاحب لکھنو کا کہ مجموعۃ الفتاوٰی جلد دوم صہ٥٣ میں واقعہ اور پیش خدمت نقل اُس کی اخیر تحریر میں موجود ہے کیا عندالضرورت ہم
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع