30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہے فقط،لہذا عرض یہ ہےکہ ان بیانوں پر طلاق ہوگی یانہیں؟بینواتوجروا
الجواب:
گواہوں کے بیان ناقص ہیں اور ان میں تین طلاقوں کا کہیں ذکر نہیں اورعورت کا قسم کھانا محض نامعتبر ہے کہ وُہ مدعیہ ہے مدعی کا حلف نہیں سُنا جاتا اس سے گواہ مانگے جاتے ہیں گواہ نہ دے سکے تو مدعا علیہ پر حلف رکھا جاتا ہے۔رمضانی نے جوگواہوں کے بیان کی تصدیق کی اس سے صرف طلاق ثابت ہوگی تین طلاقوں کا ثبوت نہیں کہ اس کا ذکر بیان شاہدانِ میں خود نہ تھا،ہاں اگر ثابت ہوکہ عورت کا بیان مذکور سُن کر رمضانی نے اس کی تصدیق کی تو بیشك تین طلاقیں ثابت ہوگئیں تصدیق بیان عورت کا اگر رمضانی کو اقرار ہے تو بہتر ورنہ اس تصدیق پر دو٢ گواہ لینے ہوں گے جو"گواہی دیتا ہوں"کہہ کر پوری صحیح شرعی شہادت ادا کریں،اگر شہادت سے یہ تصدیق نہ ثابت ہوتو تین طلاقوں کا حکم نہیں ہوسکتا۔ہاں اگر اُن میں کسی گواہ کا بیان رمضانی کا تصدیق کرنا اس کے اقرار یا دو٢شاہدین عادلین کے اظہار سے ثابت ہو تو ایك طلاق ہوئی،اگر رجعت نہ کی اور عدّت گزرگئی تو عورت نکاح سے نکل گئی،اور عدّت کے اندر رجعت کرلی تھی تو عورت بدستور اس کی زوجہ مانی جائے گی،اور اگر کسی گواہ کی بھی تصدیق ثابت نہ ہوتو ایك طلاق کا بھی حکم نہ ہو ا لیکن عورت اگر جانتی ہے کہ اس نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں تو اس پر فرض ہوگاکہ جس طرح جانے اس سے بھاگے باعلانیہ طلاق حاصل کرے اگرچہ اپنے مہر کے بدلے اور مال دے کر۔ واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٤٠: از مقام دیپاسرائے پر گنہ سنبھل ضلع مراد آباد برمکان حاجی امیر حسین صاحب٣٠ ربیع الاول شریف ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے اپنی زوجہ کی طلاق کی نیت دل میں تو کی لیکن زبان سے کوئی طلاق کا لفظ نہیں نکالا اوردوبرس تك اس نے اس سے مجامعت بھی نہیں کی لیکن ہرطرح کا خلاملا اور خوردنوش اور کہلا انتظامات خانہ داری کا برتاؤ برابر اس کے ساتھ رکھا،آیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اور بی بی کا وہی نکاح سابق قائم رہا یا پھر اس کی تجدید کی جاوے۔بینو اتوجروا
الجواب:
نکاح سابق باقی ہے اس وجہ سے تجدید کی کوئی حاجت نہیں،نری نیت سے طلاق نہیں ہو سکتی اگر چہ دن میں سوبار نیت کرے،جب تك زبان سے لفظ نہ کہے گا طلاق نہ ہوگی بلکہ زبان کی خالی حرکت بھی کافی نہیں،جب تك اتنی آواز نہ ہو کہ اگر کوئی مانع نہ ہوتو اپنے کان تك پہنچے،زبان کو جنبش ہوئی اور آواز اتنی بھی نہ نکلی کہ اپنے کان تك پہنچ سکتی جب بھی صحیح مذہب میں طلاق نہ ہوگی۔تنویرالابصار ودرمختار میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع