30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں نے ان دفعوں میں طلاق دینے کا ارادہ نہ کیا تھا بلکہ اس کے پُوچھنے پر خبر دی تھی توصرف ایك طلاق ہُوئی اگر رجعی تھی رجعت کرسکتا ہے جب تك عدت نہ گزرے ورنہ دوبارہ اس سے نکاح کرلے،واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٣٦: از شہر مسئولہ علی محمد برادر ہندہ جس کابیان ہے ٢٧شعبان ١٣٣٨ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ میرا شوہر تھا وہ اورمیں اور میرے ماں بھائی ایك ہی مکان رہتے تھے اور روٹی کپڑے پر لڑائی ہوتی تھی تو وہ مجھ کو مارتا اور برا بھلاکہتا تھا تومیں ماں نے یہ کہا کہ اب تیرا کیا کام ہے تونے اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو اب یہاں مت آ۔
الجواب:
اگر یہ بیان سچ ہے تو ایك طلاق ضرور ہوگئی لیکن عورت ابھی نکاح سے نہ نکلی،ہاں اگر ہاں پہلے لفظ سے بھی کہ"تم میرے کام کی نہ رہیں' ' اس نے طلاق کی نیت کی ہوتو دو٢ طلاقیں ہوگئیں اور عورت نکاح سے نکل گئی،رہا یہ کہ اس نے اس لفظ سے بھی نیت کی تھی یا نہیں،یہ اس کے بیان پر ہے،اس سے قسم لی جائے،نہ ہوں گی ایك ہی رجعی ہوگی کہ عدت کے اندر وُہ اپنے نکاح میں پھیرلے عورت بدستور اس کی زوجہ رہے گی واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ١٣٧: از ستار گنج ٣جمادی الآخرہ ١٣٠٥ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ہندہ نے زید سے نکاح کیا مگر صحبت نہ ہوئی،صبح کو بوجہ اغوائے چند اشخاص ہندہ نے مہر معاف کیا اور زید نے طلاق دے دی،اس صورت میں اُسی روز شام کو نکاحِ ہندہ عمرو کے ساتھ جائز ہے یانہیں بینواتوجروا
الجواب:
صورتِ مستفسرہ میں اگر زوج وزوجہ تنہائی کے مکان میں یکجا ہولئے ہوں اور اُن میں کوئی مانع حقیقی ایسا نہ ہو جس کی وجہ سے وطی اصلًا نہ ہوسکے اس کے بعد زید نے طلاق د ی تو بیشك ہندہ پر عدت واجب ہے اگرچہ مبا شرت نہ ہوئی
|
فان الخلوۃالصحیحۃ فی النکاح الصحیح مثل الوطی فی ایجاب العدّۃٰ |
عدت کو واجب کرنے میں صحیح نکاح کے بعد خلوتِ صحیحہ وطی کے حکم میں ہے اور یہاں خلوت کی صحت سے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع