30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں بیان کیا ہے،اور اس کی تحقیق ہمارے فتاوٰی میں ہے ت)واﷲتعالٰی اعلم
مسئلہ ١٣٤:کیافرماتے ہین علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے حالتِ غصّہ میں اپنی زوجہ مدخولہ سے د وبارہ کہا کہ میں نے تجھے طلاق دی،آیا یہ کون سی طلاق واقع ہوئی اور اس کا کیا حکم ہے؟بینواتوجروا
الجواب:
صورت مسئولہ میں دو طلاقیں رجعی واقع ہُوئیں،حکم ان کا یہ ہے کہ مابین عدّت کے رجعت کا اختیار ہے اور بعد انتضائے عدت اگر عورت چاہے اس سے نکاحِ جدید کرسکتا ہے اور ایامِ عدّت حرہ موطوہ میں تین حیض کامل ہیں اور اگر بوجہ صغر یا کبر کے حیض نہ آتا ہوتو تین مہینہ،اورلونڈی میں اگر حائضہ ہوتو دوحیض ورنہ ڈیڑھ مہینہ،اور طریق رجعتِ یہ ہے کہ مطلّقہ سے ایام عدت میں یہ الفاظ کہے کہ میں نے تجھے پھیر لیا یاردکیا یا روك لیا یا امثال اس کے کہے یا مابین عدت کس کرے یا بوسہ یا جماع کرے۔بہتر طریق او ل ہے،
|
فی تنویرالابصار وھی فی حرۃ تحیض بعد الدخول ثلث حیض کو امل،وفی من لم تحض بصغر اوکبر ثلثۃ اشھر،وفی امۃ تحیض حیضتان،وفی امۃ لم تحض نصف الحرۃ[1]،ملخصًا،وفیہ ھی استدامۃ الملك القائم فی العدۃ۔واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
تنویرالابصار میں ہے وہ عدت وطی شدہ حیض والی کے لئے تین حیض کامل،اور جس کو نابالغی یا بڑھاپے کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو ان کے لئے تین ماہ،اور لونڈی حیض والی کے لئے دو حیض اور غیر حیض والی کےلئے ایسی آزاد عورت کی عدت کا نصف یعنی ڈیڑ ھ ماہ۔اور اسی میں ہے:رجعت (رجوع کرنا)یہ عدت کے درمیان موجود ملکیت کوباقی قائم رکھنا ہے۔واﷲتعالٰی اعلم(ت) |
مسئلہ ١٣٥: ٢٣جمادی الآخرہ١٣٣٨ھ
زید نے غصہ میں اپنی عورت کو طلاق دی اس وقت ایك آدمی اور موجود تھا بعدہ جو شخص آیا اور پوچھا تو کہا میں نے اپنی عورت کو طلاق دے دی،ڈیڑہ ماہ تك علیحدہ رہے،اس درمیان میں جس آدمی نے پوچھا تم کیسے علیحدہ ہوتو بار ہا یہی کہا کہ طلاق دے دی،تو طلاق ہُوئی یا نہیں؟ اگر ہوگئی تو نکاح کس طور پرہونا چاہئے؟
الجواب:
اگر اس وقت ایك بار طلاق دی تھی اور باقی بار اوروں کے پُوچھنے پرکہا اور وُہ قسم کھا کر کہہ دے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع