30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آنے کے قابل تھی اگر چہ مینہ یا ہوا یا کسی غل شور کے سبب اپنے کان تك نہ پہنچی تو طلاق ہوگئی اگر رجعی تھی تو عدّت کے اندر رجعت کرسکتا ہے اور بائن تھی تو برضائے زوجہ اس سے نکاح کرسکتا ہے،اور مغلظ تھی تو بے حلال نکاح نہیں ہوسکتا،یہ ان الفاظ پر موقوف ہے جس اس نے کہا اور جتنی باز کہا،واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٣٢: ازامریا ضلع پیلی بھیت مرسلہ تاج الدین خاں صاحب ١٥ذی الحجہ ١٣٢٢ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایك مسمّی زید نے غصّہ میں آکر پانی منکوحہ مسمّاۃ ہندہ کو ایك شخص مسلمان وایك عورت قوم ہنود کے رُوبرو طلاق دی۔اور یہ بھی ہے شخص مسلمان کے رُوبرو دومرتبہ لفظ طلاق صاف طور سے کہا کہ وُہ سننے میں نہیں آیا،وُہ عورت اہل ہنود جو وہاں موجود تھی بیان کرتی ہے کہ میں نے سنا یہ لفظ طلاق نہیں کہا تھا،زید ایك شخص بالکل جاہلِ اور اُمّی ہے،اس وقت زید وہندہ دونوں راضی ہیں نکاح کس طرح ہو؟
الجواب :
اﷲعالم الغیب والشہادۃ ہے وہ ہر ایك کے دل کی جانتا ہے،اﷲسے ڈرے،اگر واقع میں اس نے تیسری بار بھی طلاق دی تھی تو عورت نکاح سے نکل گئی،اب بے حلالہ اس سے نکاح نہیں کرسکتا،اور اگر وُہ منکر ہے اور سوا اُس کافرہ عورت کے اور کوئی تیسری طلاق کا بیان نہیں کرتا تو کافرہ کی بات اصلًا معتبر نہیں،جب تك عدّت میں ہے وہ عورت کو رجعت کرسکتا ہے یعنی اتنا کہہ دے کہ میں نے تجھے اپنے نکاح میں پھرلیا وہ بدستور اس کے زوجہ رہے گی اگر پہلے کبھی ایك طلاق نہ دے چکا ہو ورنہ ایك وُہ اور دو یہ مل کر تین ہوگئیں عورت نکاح سے نکل گئی حلالہ کی ضرورت ہوگی،یوں ہی اگر پہلے طلاق نہ دی تھی یہ دو دی ہیں تو آئندہ جب کبھی ایك طلاق دے گا عورت بے حلالہ کے نکاح میں نہ آسکے گی واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٣٣: از را مپور مسئولہ محمد سعید
زید نے بحالتِ غضب اپنی زوجہ ہندہ کو یہ کہا کہ تجھ کو میں نےطلاق دیا،اب اس صورت میں طلاق ہوگی یا نہیں؟
الجواب :
ایك طلاق رجعی ہُوئی،غضب مانع طلاق نہیں بلکہ غالبًا طلاق بحالتِ غضب ہی ہوتی ہے والدھش شیئ اٰخربینہ فی الخیریۃ وردالمحتار وتحقیقہ فی فتاوٰنا(مدہوش اور چیز ہے،اس کو خیریہ اور ردالمحتار
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع