30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کانہ تھا،نہ یہ کلام کسی سوال کے جواب میں تھا جس سے اضافت پیدا ہو،بلکہ ابتدًا یہی الفاظ اُس نے مکرر کہے اس صورت میں زید سے قسم لی جائے اگر وُہ حلف کرے کہ ان الفاظ سے اپنی زوجہ مراد نہ تھی تو حکمِ طلاق نہ دیا جائے۔
|
وذٰلك لان زید اینکرارادۃالطلاق بھا والاضافۃ کما فی السؤال فیکون القول قولہ بیمینہ وان کان الظاہر ارادۃ المرأۃ بذٰلك لانہ نوی محتمل کلامہ فیصدق۔ |
یہ اس لئے کہ زید طلاق کے ارادے سے انکاری ہے اور اضافت سے بھی انکاری ہے جیسا کہ سوال میں ہے تو قسم لے کر اس کی بات مان لی جائے گی اگر چہ ظاہری طور اس سے بیوی مراد ہوسکتی ہے لیکن کلامِ خاوند میں احتمال پایا جاتا ہے جس کی نیت پر خاوند پر خاوند کی تصدیق کی جائے گی۔(ت) |
خانیہ وبزازیہ وغیرہا میں ہے:
|
قال لھا لاتخرجی من الدار الاباذنی فانی حلفت یا لطلاق،فخرجت لایقع لعدم ذکرہ حلفہ بطلاقھا ویحتمل الحلف بطلاق غیرھا فالقول لہ۔[1]اھ۔ |
خاوند نے بیوی کو کہا گھر سے میری اجازت کے بغیر باہر مت نکلو کیونکہ میں نے طلاق کی قسم کھائی ہے،تو بیوی نکل گئی،اس صورت میں طلاق نہ ہوگی،کیونکہ قسم میں بیوی کی طلاق کا ذکر نہیں ہے،جبکہ قسم میں کسی اور عورت کی طلاق کا احتمال بھی ہے لہذاخاوند کی بات معتبر ہوگی اھ(ت) |
ہندیہ میں محیط سے ہے:
|
سئل شیخ الاسلام الفقیۃ ابونصر عن سکران قال لامرأتہ اتریدین ان اطلقك فقالت نعم،فقال اگر تو زن منی یك طلاق دو طلاق سہ طلاق قومی واخرجی من عندی وھو یزعم انہ لم یرد بہ الطلاق فالقول قولہ۔[2] |
شیخ الاسلام فقیہ ابونصر سے سوال کیاگیا کہ ایك نشہ والے نے اپنی بیوی کو کہا"کیا تو چاہتی ہے کہ میں کھے طلاق دوں؟"تو بیوی نے کہا ہاں،توخاوند نے کہا"اگر تومیری بیوی ہے ایك طلاق،دوطلاق،تین طلاق،اٹھ جا،نکل میرے پاس سے"۔ اور پھر کہتا ہےکہ میں نے طلاق مراد نہیں لی،تواس کی بات، معتبر ہوگی۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع