30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان قال اردت امرأتی یقع والا لا۔[1] |
اگر خاوند نے کہا کہ میری مراد میری بیوی تھی تو طلاق ورنہ نہیں۔(ت) |
بحرالرائق میں ہے:
|
لوقال طالق فقیل لہ من عنیت فقال امرأتی طلقت امرأتہ[2]۔ |
اگر خاوند نے کہا"طالق"۔اس سے پوچھا گیا کہ تیری کیا مراد ہے جواب دیا کہ میری بیوی مراد ہے تو اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے گی۔(ت) |
عالمگیریہ میں خلاصہ سے ہے:
|
قالت طلقنی فضربھا وقال لھا اینك طلاق لایقع ولو قال اینکت طلاق یقع۔[3] |
بیوی نے کہا:"مجھے طلاق دے"،تو خاوند نے اس کو پیٹ دیا اور کہا"یہ طلاق ہے"تو طلاق نہ ہوگی،اور اگر کہا"یہ طلاق تجھے طلاق ہے"تو طلاق ہوجائیگی۔(ت) |
اس بیان سے واضح ہوگیا کہ دوسرے عالم کا جواب تو محض باطل وناصواب تھا بحالِ نیت تین طلاقیں ہوں گی جن میں رجعت محال،اور بحالِ عدمِ نیّت ایك بھی نہ ہوگی تو رجعت کا خیال محض خیال محال،اور پہلے عالم کا جواب بھی غلط تھا کہ یہاں تین طلاقیں صرف بصورتِ نیّت ہیں،نہ مطلقًا۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٢٤: از سیرام پور ضلع ہوگلی مرسلہ شیخ بدو دربان چٹکل ومحمد سراج الحق امامِ مسجد جامع ٢٥ربیع الآخر ١٣٣٦ھ
محمد ظفر کا پنی والدہ سے جھگڑا ہوریا تھا اس کی والدہ نے کہا کہ اگر اپنی بی بی کو نہ چھوڑو گے تو تم سُورکھاؤ،اسی طرح تین مرتبہ بولی،مظفر نےکہا طلاق دیتے ہیں،پھر اس نے بلاقصد غصہّ کے ساتھ اپنی والدہ کے سامنے کہا طلاق طلاق طلاق،بغیر مخاطب کرنے کسی کو اب شرعًا صورتِ مسئولہ میں ظفر کی بی بی پر طلاق پڑے گی یا نہیں؟
الجواب :
تین طلاقیں ہوگئیں،بے حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی۔واﷲتعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع