30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کچھ نہیں،اسی طرح بوجہ عدم ظہور مراد عند الناس بھی بیان شوہر کی طرف رجوع ضرور،اگر وہ اقرار کرے کہ یہ لفظ میں نے بقصد طالق کہے تھے تین طلاقوں کا حکم دیا جائے گا اور بے حلالہ اس سے نکاح نہ کرسکے گا۔اس صورت میں عورت کو عدّت گزرنے پر اختیار ہوگا جس سے چاہے نکاح کرسکتی ہے وُہ بدستور شوہر کی زوجیت میں سمجھی جائے گی فان الیقین لایزول بالشک(کیونکہ یقین،شك سے زائل نہیں ہوتا۔ت)اگر واقع میں اس نے نیّت کی اور اس نے ظاہر نہ کی تو اس کا وبال اور اپنے اور عورت دونوں کے زنا کا عذاب شوہر پر ہوگا عورت پر الزام نہیں کہ دلوں کا مالك اﷲ ہے جلا وعلا۔ وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی ؕ [1] (کوئی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔ت)عورت اپنے آپ کو مطلقہ نہیں سمجھ سکتی اگر دوسرے سے نکاح کرے گی حرامکار ٹھہرے گی فانھا مکلفۃ بالظاہر واﷲتعالٰی یتولی السرائر(کیونکہ وہ عورت ظاہر حکم کی مکلّف ہے رازوں کا اﷲتعالٰی ہی حاکم ہے۔ت)ہندیہ میں محیط سے ہے:
|
لایقع فی جنس الاضافۃ اذالم ینولعدم الاضافۃ الیھا۔٢[2] |
اضافت والے معاملہ میں طلاق نہ ہوگی جب تك اضافت کی نیّت نہ کی ہو کیونکہ بیوی کی طرف اضافت نہ ہوئی۔(ت) |
اسی میں خلاصہ سے ہے:
|
سکران ھربت منہ امرأتہ فتبعھا ولم یظفربھا فقال بالفارسیۃ بسہ طلاق ان قال عنیت امرأتی یقع وان لم یقل شیئا لایقع۔[3] |
نشے والے کی بیوی بھاگی تو اس نے تعاقب کیا،ناکامی پر کہا،تین طلاق پر۔اگر خاوند نے کہاکہ میری مراد میری بیوی ہے۔تو طلاق واقع ہوجائے گی اور اگر کچھ نہ بتایا تو نہ ہوگی۔(ت) |
انقرویہ میں بزازیہ سے ہے:
|
فرت ولم یظفر بھا فقال سہ طلاق |
بیوی بھاگی تو خاوند نے ناکامی پر کہا:تین طلاق، |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع