30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
|
نہ کہ فاضلین شارح وبحر پر۔ہاں ان پر وضاحت نہ کرنے کا اعتراض ہوگا،جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا،اس مقام کی تحقیق یُوں مناسب ہوگی جبکہ اﷲتعالٰی ہی فضل وانعام کا مالك ہے(ت)[یہاںسے غیر مربوط عبارت کو خارج کردیا گیا ہے] |
مسئلہ ١٢٢: از رامہ تحصیل گوجرخاں ضلع راولپنڈی ڈاکخانہ جاتلی مسئولہ محمد جی ٢٧ شعبان ١٣٣٩ھ
شمس العلماء رئیس الفضلائے خان خاناں جناب احمد رضاخاں صاحب دام لطفہ،السلام علیکم! اگر بے اضافت طلاق دے جائے تو کیا حکم ہوگا واقع ہوگی یا نہ؟ قاضی خاں مجتہدالمسائل سے ہے اور شامی ناقلوں سے ہے ان کے مابین اختلاف ہوتو کس پر حکم دیا جائے؟
الجواب:
طلاق بے اضافت میں جبکہ ایقاع مفاد ہو اُ س کا قول قسم کے ساتھ معتبر ہے،اگر بحلف کہہ دے گا کہ زوجہ کو طلاق مقصود نہ تھی مان لیں گے،یہی مفادِ قاضی خاں ہے اور یہی شامی نے تحقیق کیا،ان میں تخالف نہیں،خانیہ میں فالقول قولہ صراحۃ(خاوند کی بات معتبر ہوگی۔ت)اسی پر دال ہے وتمام تحقیقہ فی رسالتنا فی الباب(اس کی مکمل تحقیق اس مسئلہ سے متعلق ہمارے ایك رسالہ میں ہے۔ت)واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ١٢٣:(سوال منقول نہیں)
(١)اجمالی جواب بذریعہ تاربرقی
اگر طلاق کی نیّت تھی تین طلاقیں ہوگئیں۔
(٢)تفصیلی جواب بذریعہ ڈاک
جبکہ زید کے کلام میں عورت کی طرف طلاق کی نسبت اصلًا نہ تھی کہ تجھ کو یا فلاں عورت یا اپنی زوجہ یا دختر فلان کو طلاق ایک،دو تین،نہ دینے ہی کا کوئی ذکر زبان پر آیا کہ طلاق ایك دوتین دی یا ہُوئی جس کے باعث بحسب ظاہر زوجہ ہی کو طلاق دینا مفہوم ہوتا،نہ عورت ہی کے کلام میں ایسے الفاظ تھے جن کے جواب میں زید کے یہ لفظ بظاہر اس پر ایقاع سمجھے جاتے،مثلًا وہ کہتی میں طلاق چاہتی ہوں مجھے طلاق دے،بلکہ عورت کی طرف سے سکوت محض تھا،تو جس طرح خود یہ الفاظ محض نا وصف ومحتمل ہیں ممکن کہ یہ مراد ہو کہ طلاق ایك دو تین میں نے تجھے دیں،ممکن کہ یہ مقصود ہو کہ طلاق ایك دو تین کتنی چاہتی ہے جس کے باعث عنداﷲیہاں مدارنیّت شوہر پر ہوا،اگر ان الفاظ کے کہنے میں طلاق کی نیت تھی تین طلاقیں ہوگئیں ورنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع